توں لکھ کروڑ ہزار سہی،
میں ککھ وی نئیں لاچار سہی۔۔
توں حسن جمال دا مالک ھیں،
میں کوجھی تے بیکار سہی۔۔
توں باغ بہار دی ھیں رونق،
توں گُل پھُل ،تے میں خار سہی۔
میکوں سجناں اپنے نال چا رکھ،
میں نوکر توں سرکار سہی
ہزاروں طبی نسخوں سے ۔۔۔
نگاہِ یار بہتر ہے ۔۔۔
💕❣️💖
زُلف کی اوٹ سے چمکے وہ جبیں تھوڑی سی
دیکھ لوں کاش ! جھلک میں کہیں تھوڑی سی
میکدہ دُور ہے ، مسجد کے قریں ، تھوڑی سی
میرے ساقی ہو عطا مجھ کو یہیں تھوڑی سی
پھر مرے سامنے آ ، اور حجابات اٹھا
زحمتِ جلوہ پھر اے پردہ نشیں ! تھوڑی سی
نہ وہ آسکے نہ ہم کبھی جا سکے .....
نہ درد دل💔 کا کسی کو سنا سکے .....
بس خاموش بیٹھے ہیں ان کی یادوں میں .....
نہ اس نے یاد کیا نہ ہم بھلا سکے ......🥀
ہمارے پاس بتانے کو کچھ نہیں باقی
ہمارے ساتھ جو ہونا تھا ہو گیا آخر💔😔
ہنسو ہنسو کہ تمہارے تو خیر لاکھوں ہیں
ہمارا ایک تھا ! وہ بھی کھُو گیا آخر😢💔
خواب اچھے ہیں لیکن سہانے نہیں
اور بہتر بھی تم نے بنانے نہیں
یہیں رکھ دو محبت کی اب روشنی
تم بجھا دو دیے یہ جلانے نہیں
درد دل یار رہا درد سے یاری نہ گئی،،
زندگی ہم سے تو بے لطف گزاری نہ گئی،،
انتظار آپ کا کب لطف سے خالی نکلا،،
رائیگاں رات کسی روز ہماری نہ گئی،
تُو دل پہ بوجھ لے کے ملاقات کو نہ آ
ملنا ہے اس طرح تو بچھڑنا قبُول ہے
تو یار ہے تو اتنی کڑی گفتگو نہ کر
تیرا اصول ہے تو میرا بھی اصول ہے
ٹوٹی ہے میری نیند مگر، تم کو اس سے کیا
بجتے رہے ہواؤں سے دَر، تم کو اس سے کیا
اُوروں کا ہاتھ تھامو، انھیں راستہ دکھاؤ
میں بُھول جاؤں اپنا ہی گھر،تم کو اس سے کیا
تم نے تو تَھک کے دشت میں خیمے لگا لیے
تنہا کٹے کسی کا سفر، تُم کو اس سے کیا
لگا دیا ہے اسے ہم نے کارِ وحشت میں
وہ دل کہ جس سے دھڑکنے کا کام لینا تھا
عجیب دشمن جاں ہے کہ ساتھ رہنے دیا
جسے گنوا کے کوئی انتقام لینا تھا
یہ دن جو ماہ و سال سے آگے نہیں گئے
ہم بھی تیرے خیال سے آگے نہیں گئے
آنکھوں میں اشک لے کر وہ گھبرائی آئی تھی
میرے ہی سامنے میری تنہائی آئی تھی
جانے سے اس کے باغ میں سب کچھ بدل گیا
آنے سے جس کے باغ میں رعنائی آئی تھی
یہاں دھوکا روایت ہے
بنو زاہد پیئے جاؤ❣️✨sⷨ
کرو باتیں سبھی اچھی
گناہ بھی سب کیئے جاؤ
اتارو پشت میں خنجر
زخم رو رو سیئے جاو❣️✨sⷨ
اگر ہیں حسرتیں باقی
تو سانسیں بھی لیئے جاؤ
کہاں تم دے سکو گے حق
سو چکر ہی دیئے جاؤ
ملے گی موت زندوں کو
تمہیں کیا ڈر جیئے جاو...❣️✨sⷨ
منزل نہ مل سکی، نہ مِلے، کوئی غم نہیں!
ہر راہِ شوق میں مِرا نقشِ قدم تو ہے
میں دل فگار، آبلہ پا، خستہ تن سہی
لیکن مِرا مذاقِ طلب تازہ دم تو ہے
ڈر ہے نگاہِ لُطف یہ پردہ اٹھا نہ دے
قائم ہمارے ضبط کا اب تک بھرم تو ہے
کیا سروکار ہمیں رونقِ بازار کے ساتھ
ہم الگ بیٹھے ہیں دستِ ہنر آثار کے ساتھ
اے مرے دوست! ذرا دیکھ میں ہارا تو نہیں
میرا سر بھی تو پڑا ہے مری دستار کے ساتھ
وقت خود ہی یہ بتائے گا کہ میں زندہ ہوں
کب وہ مرتا ہے جو زندہ رہے کردار کے ساتھ
گذر گئے ھیں بہت دن ، رفاقتِ شب میں
اک عمر ھو گئی ، چہرہ وہ چاند سا دیکھے
تیرے سِوا بھی ، کئی رنگ خُوش نظر تھے مگر
جو تجھے دیکھ چکا ھو , وہ اور کیا دیکھے؟
ہونٹ اچھے ہیں آپ کے اور میں
ایسے ہونٹوں سے ہی متاثر ہوں..
دیکھیئے کیفیت سمجھ لیجیے
میں تو اب بولنے سے قاصر ہوں. ♥️🔥
ابھی تو شہر کے لوگوں کے غم ہی لکھتا ہوں
میں اپنی ذات کے بارے میں کم ہی لکھتا ہوں
اسے بتاؤ وہ مجھ سے بچھڑ نہیں پایا،،،
ابھی میں اپنے تعارف میں "ہم" ہی لکھتا ہوں
🖤
تم نے کیا سوچ کر میرے آگے
پھر محبت کا مشورہ رکھا؟
عشق گھر کا کوئی، ملازم ہے؟؟
ایک چھوڑا تو دوسرا رکھا؟
تیز بارشِ میں کبھی سرد ہواؤں میں رہا
اک تیرا ذکر تھا جو میری صداؤں میں رہا
کتنے لوگوں سے میرے مراثم ہیں مگر۔۔۔۔۔
تیرا چہرہ ہی فقط میری دعاؤں میں رہا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain