دنیا میں سب سے خطرناک نشہ انسان کا ہوتا ہے۔ اس کی آواز کا اس کے دیدار کا۔ اس کی کال کا یہاں تک کہ ایک میسج ہی آجائے۔ اور یہ وہ نشہ ہے ۔ جس کا جیتے جی کوئی علاج نہیں۔
when you realise that.. سارے فیصلے تم نے خود ہی کر ڈالے اے زندگی۔ ہم سے بھی پوچھا ہوتا کیسے جینا تھا کتنا جینا تھا جینا تھا بھی یا نہیں۔ رفتہ رفتہ میں نے زندگی کو سمجھنا شروع کیا تو پتہ چلا کہ زندگی تو صبر کے سواء کچھ نہیں۔۔ کوئی بچھڑ گیا تو صبر کوئی روٹھ گیا تو صبر کسی نے کردار پہ انگلی اٹھائی تو صبر۔ جو مانگا نہیں ملا تو صبر۔
میرے جیسے کچھ لوگ ضرور ہوں گے۔ جو اپنے پرانے موبائل کمپوٹر کھلونے تک نہیں بیچتے کسی کو بھی نہیں دیتے۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ چیزیں ہمارے ساتھ رہ کہ انمول ہو چکی ہیں۔ انسان تو پھر دلوں میں بستے ہیں۔
جب آپ وصیت لکھنے بیٹھیں گے تو آپ کو پتہ چلے گا کی واحد شخص جس کا آپ کے مال میں کوئی حصہ نہیں وہ آپ خود ہیں۔ ۔ لہذا جتنا ممکن ہو سکے اپنی زندگی میں ہی آخرت کے لئے ذخیرہ کر لیں۔ جتنا ہو سکے صدقہ خیرات کریں۔