*💎 سلسلة الأحاديث الصحيحة : (210) 💎* 🌹 سيدنا أبو هريرة رضي الله عنه سے روایت ہے، رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : *« جِسے بغیر دلیل کے (غلط) فتویٰ دیا گیا (اور اس نے اس غلط فتویٰ پر عمل کر لیا) تو اس کا گناہ اس پر ہے جس نے اسے فتویٰ دیا ».* *📑 فوائد و مسائل عام آدمی کا فرض ہے کہ وہ علماء سے مسئلہ دریافت کرے اور علماء کو چاہیے کہ قرآن و حدیث کے دلائل کی روشنی میں جواب دیں۔ بغیر دلیل کے محض عقل کی روشنی میں فتویٰ دینا گناہ ہے کیونکہ سائل کا اعتماد عالم پر ہوتا ہے، اگر وہ غلط فتویٰ دے گا تو سائل کی غلطی کی ذمہ داری عالم پر ہو گی۔ 📘 *[ سنن ابن ماجه : ٥٣ ]*