کہ میں نے اب توبہ کی، اور ان کی توبہ بھی قبول نہیں جو کفر پر ہی مر جائیں، یہی لوگ ہیں جن کے لئے ہم نے المناک عذاب تیار کر رکھا ہے انسان خطا كا کٹپتلا ہے لیکن اگر وہ اپنی خطاؤں سے باز آ جائے اور توبہ کر لے اور عہد کر لے کے اب وہ دوبارہ اپنی غلطی نہیں دوہرائے گا تو اللہ بھی ایسے لوگوں کو معاف فرما دیتا ہے..... لیکن جو لوگ یہ سوچ کر گناہ کرتے رہتے ہیں کہ جب وقت آے گا تب دیکھا جائے کا ابھی ہم زندگی انجوائے کریں.. تو ایسے لوگوں کے لیے فرعون کی مثال ہے کہ جس نے زندگی اپنی مرضی سے گزاری اور موت کے وقت رب یاد آ گیا... تو اللہ نے فرما دیا کہ ایسے لوگوں کے لیے توبہ نہیں... اپنے اعمال کا جائزہ لیا کریں یہ نہ ہو کے بعد میں وقت آپ کو وقت ہی نہ دے...
اِنَّمَا التَّوۡبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ السُّوۡٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوۡبُوۡنَ مِنۡ قَرِيۡبٍ فَاُولٰٓٮِٕكَ يَتُوۡبُ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا اللہ تعالیٰ صرف انہی لوگوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو بوجہ نادانی کوئی برائی کر گزریں پھر جلد اس سے باز آ جائیں اور توبہ کریں تو اللہ تعالیٰ بھی ان کی توبہ قبول کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بڑے علم واﻻ حکمت واﻻ ہے وَلَيۡسَتِ التَّوۡبَةُ لِلَّذِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ السَّيِّاٰتِ ۚ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الۡمَوۡتُ قَالَ اِنِّىۡ تُبۡتُ الۡـــٰٔنَ وَلَا الَّذِيۡنَ يَمُوۡتُوۡنَ وَهُمۡ كُفَّارٌ ؕ اُولٰٓٮِٕكَ اَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابًا اَ لِيۡمًا ان کی توبہ نہیں جو برائیاں کرتے چلے جائیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے تو کہہ دے کہ میں