یہ پڑھ کے.. اور وہ چُنتا انہی کو ہے جن کو وہ خاص کرنا چاہتا ہے.. پھر غم کس بات کا.. یہ بات بھی کتنا سکون دیتی ہے کہ ہمیں روتے ہوئے کوئی اور نہیں بلکہ ہمارا خالق دیکھ رہا ہے.. ہمارے آنسو خاص ہو رہے ہیں..!!
جب اپنا غم کسی سے بیان نہ کر سکو.. جب اپنی کیفیت کو خود ہی نہ سمجھ سکو.. جب کوشش کر کر کے تھک جاؤ.. ذہن کام کرنا چھوڑ دے.. آنسوؤں میں کمی نہ آئے.. تمام دن ایک سے گزرنے لگیں.. تو خود کو تھکانا چھوڑ دو.. سوچوں کے گرداب کو جھٹک دو.. اپنا آپ حالات کے حوالے کردو اُس ایک ذات کے بھروسے.. وہ اتنا رحیم ہے کہ اُس پہ بھروسہ کرنے والے کو تنہا نہیں چھوڑتا.. اسے امید دیتا ہے, دلاسے دیتا ہے, اپنے ہونے کا یقین دلاتا ہے.. مشکل میں ڈالتا ہے تو خود ہی اس مشکل سے نکلنے کا وسیلہ بھی بن جاتا ہے.. امتحان لیتا ہے تاکہ صابر بنو.. آزمائش میں ڈالتا ہے تاکہ شاکر رہو.. رُلاتا ہے تاکہ صاف دل رہو.. چپ بھی کرواتا ہے تاکہ یقین رکھو.. جگہ جگہ اپنے ہونے کی اپنے ساتھ کی یقین دہانی کراتا ہے... "نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ وہ تجھ سے بیزار ہو گیا ہے" سکون ملتا ہے