خیال آیا. رات کے تین بج رہے تھے. کتنی ہی بار اس نے میسج لکھ کر مٹایا, عجیب شش و پنج کا شکار تھی. کوئی اس سے بات کرنے کے لیۓ بےچین تھا، یہ خیال اسے نہ جانے کیوں ایک انجانی سی خوشی دے رہا تھا.
بالآخر سوچ بچار کے بعد اس نے ایک میسج ٹائپ کرلیا. جس میں اس نے لکھا کہ وہ کون ہے اور رات کے اس پہر اسے کیوں تنگ کررہا ہے. ہاں کوئی بات نہیں ایک میسج ہی تو ہے اور پوچھ لینے میں قباحت ہی کیا ہے, اس نے خود کو تسلی دی.
بٹن دبانے ہی لگی تھی کہ اچانک اک چہرہ اسکی دماغ کی اسکرین پر ابھرا.
"میری بیٹی تو میرا مان ہے"
یہ جملہ جو اسکے بابا اس کا ماتھا چومتے ہوۓ اکثر دہرایا کرتے تھے. اس کے حلق میں کانٹے چبھنے لگے.
"بیٹیاں جب معاشرے میں سر جھکا کر چلتی ہیں تب ہی اس کےبھائی اور باپ سر اٹھا کر چلنے کے قابل ہوتے ہیں"
شفقت و محبت سے کہا گیا بابا کا ایک اور
میری بیٹی میرا غرور ہے
کچھ دن پہلے اسکے موبائل پر انجانے نمبر سے کال آنے لگی. اس نے یہ سوچ کر کہ کسی دوست یا جاننے والی کی کال ہوگی, کال ریسیو کرلی. مگر دوسری طرف سے مردانہ آواز سنتے ہی رانگ نمبر کہہ کر کال منقطع کردی. بس وہ دن ہے اور آج کا دن میسجز اور کالز کا ایسا تانتا بندھا جو رکنے کا نام ہی نہ لیتا
کال تو اس نے کوئی رسیو نہ کی مگر میسجز پڑھتی رہی. نام پوچھا جاتا، فون اٹھانے پر اصرار کیا جاتا اور اسکی آواز کی خوب تعریف کی جاتی، اپنے بارے میں بتایا جاتا
جواب نہ دینے کے باوجود میسجز اور کالز کا سلسلہ مستقل مزاجی سے جاری تھا
#عِفّت کے لیے یہ سب نیا تھا، چھوٹی سی عمر کا ایک انجانا سا احساس تھا جسے وہ خود سمجھنے سے قاصر تھی
کیا ہوا اگر میں بھی ایک میسج کردوں یہی پوچھ لیتی ہوں کہ کون ہو اور کیوں مجھے تنگ کررہے ہو، اس لمحے اسکے دماغ میں
" اس کا بیٹا کل ایک ٹریفک کے حادثے کا شکار ہو گیا تھا ، جب ہم نے اسے آپ کے بیٹے کے لیے کال کی تھی تو وہ اس کی تدفین کر ریا تھا ۔ اور اب جبکہ اس نے آپ کے بیٹے کی جان بچالی ہے دوبارہ تدفین کو مکمل کرنے گیا ہے"۔
کبھی کسی پر بےجا تنقید نہ کرو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ دوسرے کی زندگی کیسی ہے اور وہ کن کن مشکلات میں مبتلا ہے
تم نہیں جانتے کہ وہ تمہارے کام آنے کے لیے کتنی بڑی قربانی دے رہ ہے
مقدس کتاب کہتی ہے کہ ہم مٹی سے بنے ہیں اور ایک دن ہم سب کو مٹی میں مل جانا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے اور غفور رحیم ہے ڈاکٹر کسی کو زندگی نہیں دیتا نہ کسی کی عمر بڑھا سکتا ہے ۔ اب آپ آرام سے بیٹھیں اور اپنے بیٹے کے لیے دعا کریں ۔ ہم آپ کے بیٹے کو بچانے کی پوری کوشش کریں گے "۔
"بس ان لوگوں کی نصیحتیں سنو چاہے تمہیں ان کی ضرورت ہو یا نہ ہو ۔ بچے کا باپ بڑبڑایا "۔
آپریشن میں کئ گھنٹے لگ گئے لیکن بالآخر جب ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے باہر آیا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، " تمہارا بیٹا اب خطرے سے باہر ہے ، اگر کوئ سوال ہو تو نرس سے پوچھ لینا" ۔ یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا ۔
"کتنا مغرور ہے یہ شخص ، کچھ لمحے کے لیے بھی نہیں رکا کہ میں اپنے بچے کی حالت کے بارے میں ہی کچھ پوچھ لیتا" ، بچے کے باپ نے ڈاکٹرکے جانے بعد نرس سے کہا ۔
نرس نے روتے ہوئے جواب دیا ، " ا
ڈاکٹر تیزی سے ہسپتال میں داخل ہوا ، کپڑے تبدیل کیے اور سیدھا آپریشن تھیٹر کی طرف بڑھا ۔ اسے ایک بچے کے آپریشن کے لیے فوری اور ہنگامی طور پر بلایا گیا تھا ۔
ہسپتال میں موجود بچے کا باپ ڈاکٹر کو آتا دیکھ کر چلایا ، "اتنی دیر لگا دی؟ تمہیں پتا نہیں میرا بیٹا کتنی سخت اذیت میں ہے ، زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے ، تم لوگوں میں کوئ احساس ذمہ داری نہیں ہے ؟"۔
"مجھے افسوس ہے میں ہسپتال میں نہیں تھا ، جیسے ہی مجھے کال ملی میں جتنی جلدی آ سکتا تھا آیا ہوں " ، ڈاکٹر نے مسکرا کر جواب دیا ۔ "اب میں چاہوں گا کہ آپ سکون سے بیٹھیئے تاکہ میں اپنا کام شروع کر سکوں"
"میں اور سکون سے بیٹھوں ، اگر اس حالت میں تمہارا بیٹا ہوتا تو کیا تم سکون سے بیٹھتے ؟ اگر تمہارا اپنا بیٹا ابھی مر رہا ہو تو تم کیا کرو گے ؟" باپ غصے سے بولا ۔
ڈاکٹر پھر مسکرا کر کہا ، " ہماری
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain