Damadam.pk
Asad302pk's posts | Damadam

Asad302pk's posts:

Asad302pk
 

" ہمیں یہ وبا کُچھ نہیں کہتی
ہم تیری مُلاقات کے بیمار ہیں "

Asad302pk
 

سنا ہے ہر شخص تم سے خوش ہے
کیا واقعی ہی؟ تم اتنے منافق ہو

Asad302pk
 

بڑے گھر کی تھی صاحب
چھوٹے سے دل میں کیسے رہتی

Asad302pk
 

گفتگو کرنے کا کچھ اُس میں ہُنر ایسا تھا
وہ میری بات کا مفہوم بدل دیتا تھا

Asad302pk
 

غلطیاں نہیں کرینگے تو پتہ کیسے چلے گا
کون کون ہمارے گرنےکا انتظار کر رہا ہے

Asad302pk
 

یتیمی کا مسئلہ جب سے کھڑا ہوگیا
میں بچے سے یک دم بڑا ہو گیا

Asad302pk
 

اے دوست ہم نے ترک محبت کے باوجود
محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی
تیرے قریب رہ کے بھی دل مطمئن نہ تھا
گزری ہے مجھ پہ یہ بھی قیامت کبھی کبھی

Asad302pk
 

روح آزاد ہو ؛ مجبور تقاضا نہ رہے
ہے تمنا کہ مجھے کوئی تمنا نہ رہے

Asad302pk
 

یہ رات آخری لوری ___,___ سنانے والی ہے
میں تھک چکا ہوں مجھے, نیند آنے والی ہے
ہنسی مذاق کی باتیں_, یہیں پہ ختم ہوئیں
اب اس کے بعد کہانی __,,__ رلانے والی ہے

Asad302pk
 

سجدے سے نہ اُٹھے ..........دل ایسی کوئی نماز دے
مجھے عشق دے اپنی ذات کا ، اسے کُن سے نواز دے

Asad302pk
 

زار زار رو کر اک راز معلوم ہوا ہے
تمہارا دھوکے بازی کا تو معمول ہوا ہے

Asad302pk
 

اب کسی سے مرا حساب نہیں
میری آنکھوں میں کوئی خواب نہیں
نوچ پھینکے لبوں سے میں نے سوال
طاقتِ شوخئ جواب نہیں

Asad302pk
 

آخری عشق میں اندیشہءِ ہجراں نہ رہے
گر کوئی شرط روا ہے تو بتا دی جائے
جب تلک اچھا لگوں ساتھ مرا دیتے رہو
یہ ضروری تو نہیں عمر گنوا دی جائے

Asad302pk
 

اٹھ کے دو چار قدم اُس کو روانہ کر دے
یوں نا ہو لوٹ کر وہ آ جائے
ہم کو اپنی بھی ضرورت نہیں رہی باقی
تو اس کو رکھ کے پاس اپنے کیا کِیا جائے؟؟

Asad302pk
 

تمہارا چہرہ مُجھے یاد ھوگیا ھے سو اب
دکھاؤ یا نہ دکھاؤ جھلک، برابر ھے
الگ الگ ھیں تری ساری چوُڑیوں کے رنگ
یہ اور بات کہ سب کی چھنک برابر ھے

Asad302pk
 

تم نے کیسے بُھلا دیا ہم کو
تم سے ہی مستعار تھے ہم تو
ہم کو یاروں نے یاد بھی نہ رکھا
جونؔ یاروں کے یار تھے ہم تو
جون ایلیاء

Asad302pk
 

ماضی اٹھا کے پھینک دو کوڑے کے ڈھیر پر
آنکھوں کو جس کی یاد سے وحشت ہوا کرے
یہ تو نہیں کہوں گی کہ مر جائے میرے بن
ہنسنے میں بس کبھی کبھی دقت ہوا کرے
فوزیہ شیخ

Asad302pk
 

اداس ھونا مسلے کا حل نہیں
جو پسند ھے اغوا کیجیے نکاح کیجیے�

Asad302pk
 

سروں سے کھینچ لیا وقت نے وفا کا لحاف
وہ پردے اٹھ گئے جو تعینات رہتے تھے
بچھڑ گیا ہے وہ سنگین موسموں میں کہیں
وہ میرے دل پہ سدا جس کے ہاتھ رہتے تھے

Asad302pk
 

بھولے ہیں رفتہ رفتہ انہیں مدتوں میں ہم
قسطوں میں خودکشی کا مزا ہم سے پوچھئے