اب فقط دیکھتے ہی رہتے ہیں..
ورنہ ہم بھی تو بولتے تھے, کبھی
اب نا اٹھنا سرہانے سے میرے
اب تو گنتی کے دم رہ گئے ہیں
کٹ تو جاتی ہے مگر رات کی فطرت ہے عجیب
اس کو چپ چاپ جو کاٹو تو صدی بن جاتی ہے۔۔۔۔۔ !
تیرے چہرے کے نقش ایسے ہیں
نظر اُ ٹھا تا ہو ں بھٹک جا تا ہوں۔
تھا ارادہ تیری فریاد کریں حاکم سے ،
وہ بھی کمبخت تیرا چاہنے والا نکلا۔
سنا ہے رات دیر تک جاگتے ہو
یادوں کے مارے ہو یا محبّت میں ہارے ہو.
ڈھلنے لگی تھی رات کہ تُم یاد آ گئے۔۔
پھر یُوں ہوا کہ رات بڑی دیر تک رہی۔۔۔!!!
سامنے ہوتا ہے لیکن مجھے رد کرتا ہے...!!
بعض اوقات تو آئینہ بھی حد کرتا ہے...!!
مجھ کو تولا گیا خطاؤں سے
میری اچھائیاں رائیگاں نکلیں
سگریٹ پر لکھ کر نام تیرا غم دھوئیں میں اُڑا رہا ہوں_۔۔
_خود بھی جل رہا ہوں ،تُجھے بھی جلا رہا ہوں_۔۔!
*یہ محبت کے حادثے اکثر دلوں کو توڑ دیتے ہیں*
*تم منزل کی بات کرتے ہو لوگ راہوں میں چھوڑ دیتے ہیں*
میں سن کے اس کی سب باتیں فقط اتنا ہی کہتا ہوں.
کہاں آپ؟ کہاں وفا،،،بس کیجئے ... رہنے دیجئے...