نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی
بڑی آرزو تھی ملاقات کی
تم مخاطب بھی ہو قریب بھی ہو
تم کو دیکھیں کہ تم سے بات کریں
جواب جن کا نہیں وہ سوال ہوتے ہیں
جو دیکھنے میں نہیں کچھ، کمال ہوتے ہیں
عجیب طرفہ تماشا ہے میرے عہد کے لوگ
سوال کرنے سے پہلے جواب مانگتے ہیں
برف وادی کے جو مسافر ہوں
آگ دل میں جلا کے چلتے ہیں
ہم نہ یوسف نہ وہ زلیخا ہیں
پھر بھی دامن بچا کے چلتے ہیں
جو چاہئے سو مانگیے اللہ سے امیرؔ
اس در پہ آبرو نہیں جاتی سوال سے
ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں
اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں
تم کو آتا ہے پیار پر غصہ
مجھ کو غصے پہ پیار آتا ہے
ستم ہی کرنا، جفا ہی کرنا، نگاہ الفت کبھی نا کرنا
تمہیں قسم ہے ہمارے سر کی، ہمارے حق میں کمی نا کرنا
ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی
جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا
اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے
تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
کتاب سادہ رہے گی کب تک ؟
کبھی تو آغاز باب ہو گا۔
بستی اجاڑ ڈالی جنہوں نے۔
کبھی تو ان کا بھی حساب ہو گا؟
اس ڈر سے میں قمیض کبھی جھاڑتا نہیں
کب جانے آستین سے احباب گر پڑیں۔۔
خان صاحب
کی گھڑی سے نہ صرف ایک علاقے کا
روڈ بنایا گیا تھا بلکہ اس گھڑی نے 1268
گھڑیوں کا سراغ بھی لگا لیا😂🙏🤧
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain