🍁:کبھی رک گئے کبھی چل دیے کبھی چلتے چلتے بھٹک گئے یوہی عمر ساری گزار دی یوہی زندگی کے ستم سہے کبھی نیند میں کبھی ہوش میں تو جہاں ملا تجھے دیکھ کر نہ نظر ملی نہ زباہلی یوہی سر جھکا کے گزر گئے مجھے یاد ہے کبھی ایک تھے مگر اج ہم ہیں جدا جدا وہ جدا ہوئے تو سنور گئے ہم جدا ہوئے تو بکھر گئے کبھی آرش پر کبھی فرش پر کبھی ان کے در کبھی در بدر غم عاشقی تیرا شکریہ ہم کہاں کہاں سے گزر گئے💔🥺🥀
:اس ایک کچی سی عمر والی کے فلسفے کو کوئی نہ سمجھ سکا جب اس کے کمرے سے لاش نکلی خطوط نکلے تو لوگ سمجھے۔ وہ گاؤں کا اک ضعیف دہقاں سڑک کے بننے پہ کیوں حفا تھا جب انکے بچے شہر جاکر کھبی نہ لوٹے تو لوگ سمجھے