غم کی راہوں میں مجھے چھوڑ کے جانے والے۔ بیوفا کیوں نہ کہیں تجھ کو زمانے والے۔ خواب دیکھا کر جھوٹے کوئی تُجھ کو لوٹے۔ کبھی تیرے دل کا آئینہ بھی میری طرح سے ٹوٹے۔ میری چاہت کا ہر خواب جلانے والے بیوفا کیوں نہ کہیں تُجھ کو زمانے والے۔ گلی گلی ہرجائی تیری ہو رسوائی۔ تو پیار کو ترسے محفل محفل تُجھ کو ملے تنہائی۔ مجھ کو اداسی کی تصویر بنانے والے۔ بیوفا کیوں نہ کہیں تُجھ کو زمانے والے۔
کُچھ لوگ آپکی زندگی سے جانے کے بہانے ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔۔ وہ ڈھونڈھ نہیں رہے ہوتے بلکہ ایسی وجوہات پیدا کرتے ہیں کہ کسی صورت اس سے بگاڑے اور وه بہانہ اور وقت دیکھ کر نکل جائے۔ اور ایسے لوگوں کی مشکل آسان کر دینی چاہیے۔ اُنھیں چھوڑنے میں پہل کر کے کیونکہ آپکو چھوڑنے کا فیصلہ وہ پہلے ھی کر چُکے ہوتے ہیں۔ پھر ایسے لوگوں کو باندھ کر رکھنا نہ ممکن ھوتا ھے۔