میرا معیار ایسا ہے،،،،،،،،،،،،میں آوارہ نہیں ملتی،،،،،،،مجھے تم سوچ کر کھونا،،،،،،،میں دوبارہ نہیں ملتی
کہتے ہیں محبت روح سے ہوتی ہے،،،،،،،،لیکن مجھے تو روحوں سے بڑا ڈر لگتا ہے
بدل دیں گے اپنی زندگی کچھ اس طرح دیدار تو دور لوگ بات کرنے کو بھی ترسیں گے
حق تنقید تمہیں ہے مگر اس شرط کے ساتھ،،،،،،،،جائزہ لیتے رہو اپنے بھی گریبانوں کا
جستجو نے کسی منزل پہ ٹھہرنے نہیں دیا،،،،،،،،ہم بھٹکتے ہی رہے آوارہ خیالوں کی طرح
انا پرستی کی حد پوچھتے ہو؟؟
______تو سنو_______
جس کے بنا ہر سانس ٹوٹتی لگے میں نے اس کو بھی پانے کا وظیفہ نہیں کیا
رنگ سارے سج جاتے ہیں ہم پہ
بڑی دلکش ہوتی______ہیں ہم لڑکیاں
جس کو قرآن کی آیات نہ پگھلا سکیں اسے پھر جہنم کی آگ ہی پگھلائے گی
کالی بلی سے ڈرتے ہیں لوگ کالے کرتوتوں سے نہیں ڈرتے
دنیا میں کچھ حادثے ایسے ہوتے ہیں جو سمجھا دیتے ہیں ماں باپ کے سوا کوئی مخلص نہیں ہوتا
مشکل وقت کوشش سے نہیں نکلتا یقین سے نکلتا ہے
دلوں کی عمارتوں میں کہیں بندگی نہیں پتھر کی مسجدوں میں خدا ڈھونڈتے ہیں لوگ
اپنے خلاف باتیں خاموشی سے سن لیتی ہوں
میں نے جواب کا حق وقت کو دے رکھا ہے
People laugh at me because i am deffrent i laugh at them because They are all the same.
یہی ہم نے سیکھا ہے جرم وفا سے
بچھڑ جائیے گا تو مر جائیے گا