بڑے باذوق ھوتے وہ لوگ
جو وضو کر کے محبتوں کو انجام دیتے
☺️
خدا کی مخلوق انسان میں سے بھت سے انسان نھی جانتے اپنے خالق کو
تو بات دراصل یوں کی جاتی ھے
نکتہ آغاز وھی سے ھو گا جہاں سے وجود تخلیق کیا گیا
ظاھر ھے جو تخلیق ھوا ھو اسکی کیا طاقت وہ اپنے خالق کے آگے یہ سوال کرے کہ مجھے میری مرضی کے بنا کیوں تخلیق کیا گیا میرا کیا قصور جو
مجھے دنیا کی کسوٹی میں بھیج دیا گیا یہ پرکھنے کے لیے آیا میں نیک ھوں یا بد
خیر نیک ھونا یا بد ھونا میرے اختیار میں ھے ۔۔۔لیکن یہ اختیار مکمل تو نھی بلکہ آدھا ھے۔۔۔۔ رب سے یہ نھی پوچھا جا سکتا اس نے ایسا کیوں کیا ۔۔مگر وہ بادشاھت والا ھے ھر کسی سے پوچھ سے سکتا ۔۔۔
رب راکھا ☺️
انتظار
لفظ کتنا ھی چھوٹا ھے
مگر صدیاں چھپی جاتی ھیں اس ایک لفظ میں
لمحوں کی مسافت کا دورانیہ لامحدود ھوتا چلا جاتا
بڑی اذیت ھے
کرب میں مبتلا کردیتا یہ انتظار
ایک سرد آہ سے وقف اسکا
دراصل غمگین آہ میں بدل جاتا ھے
یہ انتظار ھر انسان کو بوڑھا کر دیتا ھے
کاش اس انتظار کا نعم البدل خدا ھوتا تو یقننا اسکی بھرپائی ھو جاتی مگر اس انتظار میں جکڑے راہ خدا سے ھٹ جاتے ۔۔۔وھی رک جاتے بھٹک جاتے
میں اکثر سوچتا تھا
اس انتظار کے بدلے میں انسان کو کم سے کم درد شناس خدا تو ملنا ھی چاھیے تھا موت کی ھچکی سے پہلے اسکا مداوا ھونا چاھیئے تھا زخم بھر جانے چاھیے۔ مگر پھر یہ لفظ انتظار مکمل ھو جاتا مگر یہ تو ادھورا ھے مکمل اگر ھو گا تو انتظار کی تعریف بدل جائے گی انتظار کب پورا ھوتا یہ تو اٹکا رھتا ھوتا رھتا کرنا پڑتا جھیلنا پڑتا
نیند نہ آنے کی ب شمار وجوھات ھو سکتی
مگر تجسس
سب پہ حاوی ھے
یہ تجسس ھی تو ھے جو انسان کو مطمن نھی ھونے دیتا
اور کریدتا رھتا ھے
اپنی ب لگام خواھش کی تکمیل کو ۔۔مگر۔ وہ کہاں پوری ھوتیں جو کن فیکون کی چوکھٹ تک نہ پہنچی ھوں
جب تک انسان کو یہ معلوم پڑتا اسکا مسلہ جو اسنے اپنی ذات سے منسوب کر رکھا وہ اس کا خود ساختہ ھے تب تک روح اسکے جسم سے نکل رھی ھوتی اور وہ اپنی حقیقت اپنی آنکھوں سے دیکھ رھا ھوتا
جو شخص حقوق اللہ پورے نھی کرتا یا کر رھا
اس شخص سے بندوں کے حقوق کے فرائض کی ادائیگی سرانجام دینے کی توقع رکھنا یا امید رکھنا سب سے بڑی غلطی ھے
دعا
اے اللہ میں ھر اس شر سے پناہ چاھتا ھوں جو تو نے پیدا کیا
بڑی تقدیر کے فیصلے بعض اوقات انسان کے عمل کو نھی دیکھتے ۔۔۔
نیت کو دیکھتے ھیں
انسان اس دنیا فانی میں جو کہ انسان کے مرتے ھی ختم ھو جانی ھے
اپنی تقدیر جو اسکے مقدر میں لکھی جاچکی ھے اس سے جیت نھی سکتا راہ فرار اختیار نھی کر سکتا اسے بدل نھی سکتا
اسکے برعکس اسکا کوئی ایسا نیک عمل جو اس نے سمجھ بوجھ کے کیا ھو یا نا سمجھی میں
اسکی تقدیر بدلنے کے لیے کافی ھے
وہ نیک محنت طلب عمل کونسا ھو گا ؟؟؟؟؟
پہلے نمبر پر کسی کے لیے آسانی پیدا کرنا یعنی کے خدا کی خاطر
دوسرا یقین والی دعا کرنا ۔۔پھر اس دعا پر استقامت رکھنا ۔۔۔ ۔۔تقدیر بدلنے کے لیے کافی ھے
ماں باپ رشتہ دار پڑوس ضرورت مند یتیم مسکین کی بھلائی کرنا ۔۔۔
ان دو باتوں کے علاؤہ ۔۔۔سب سے خاص عمل ۔۔۔۔ خود بدگمانی سے بچنا ۔۔۔بدگمانی ایسا ناسور ھے جو نیک سیرت انسان کی دھجیاں اڑا دیتا ھے ۔۔۔اس سے مکمل پرھیز چاھیے ۔۔۔
اذان عشاء کا وقت ھوا چاھتا ھے
ایک ھوتی ھے تصویر
جس میں انسان کے خدوخال نظر آتے ھیں
ایک سیلفی ایجاد ھوئی اسمیں انسان کی حرکتیں نظر آتیں
ایک جو بچپن سے سنتے آئیں امیج
اسمیں انسان کی قابلیت کے اوصاف نظر آتے ۔۔۔
اور آج کے دور میں ان تین میں ملاوٹ فلٹر نے کردی ۔۔۔اصل کیا ھے وہ فلٹر میں چھپا لیا گیا ۔۔۔۔۔
دوست وہ جو مصیبت میں کام آئے
اس تعریف کے زعم میں تو ایسا دوست دنیا کے صحفہ سے ویسے ھی ناپید ھو چکا ھے
اس تعریف کے علاؤہ جو مرضی تعریف بنا لو دوست کی۔۔۔۔۔۔
اس میں سبھی آ جائیں گے ۔۔۔
ان کے لیے بندہ کیا بولے خیر دل بڑا کرتے ھیں اور انھیں کو عقیدتیں پیش کرتے ھیں ۔۔۔
you are not my true friend but
آج کے دن آپ لوگ ھی ھو
حلق سے اترتے ھی محبت کا تسلسل برقرار رھتا چائے بڑھ کر محبوب عالم فنا میں کوئی نھی
رب
وارث
بڑے ب مروت ھوتے ھیں وہ لوگ
جن کو یہ احساس ھی نھی ھوتا کوئی انھیں اھمیت دے رھا ھے
روزانہ کچھ نہ کچھ انسان کی سھولت کے لیے دریافت ھوتا ھے یا ایجاد ھوتا ھے
کیا مجال ھے انسان پھر بھی سکون میں ھو
جنت کا مسافر دنیا میں جتنی مرضی آرائشوں سے مزین ھو جائے ۔۔۔
ایک دن تنگ آ ھی جاتا ھے ۔۔۔
خیال طبع شوق مست
عارضہ قلب بلند لاحق
ش شتر مرغ 🐓
شکوہ شکایت کیا ھے
ادھوری تمنا بھی ایک شکوہ ھے جو اکثر ھم اپنے رب سے کرتے ۔۔۔
وہ پاک ھستی اور ھم اس سے اپنے غلیظ نفسانیت کی تکمیل میں موضوعات گھڑے رکھتے
جذبوں کی تجارت کے لیے ادب والوں نے لفظوں کو اپنا رقیب بنایا اور 80 سے زیادہ عمر نے حقہ کو
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain