آج کے دور میں کون خوشحال ھے یا اپنے اللہ کا شکر گزار تو اسکی باتوں کو سن پڑھ لیجیئے ھر شخص ھی دل میں زبان پہ کوئی نہ کوئی شکوہ گلہ سجائے بیٹھا ھے ۔۔۔۔ ۔
میں اکثر سوچتا ھوں انسان کو اپنے خالص جذبات کا ڈھنڈورا لوگوں کے سامنے نھی پیٹنا چاھیے ۔۔۔ کیونکہ لوگوں کو اپ کے جذبات سے دو ٹکے کا مطلب نھی ۔۔۔ کیونکہ ھر انسان کو خود کی فکر لاحق ھوتی ھے ۔۔۔ اگر کسی لڑکی لڑکے سے پیار ھے تو بجائے دنیا کے لوگوں کے سامنے اظہار کرنا ۔۔۔۔۔ اپنے رب خالق سے کریں وہ زیادہ اس کا حق دار ھے اپ کے جذبات کی قدر وھی کر سکتا
لفظ عشق یا تو خود بذات غلط مفہوم پیش کرتا ھے یا اس کے ب ضرر استعمال سے اس کے معنی مفہوم میں گھٹیا ب حیا ب پردہ مطلب نکالے جاتے ھیں ۔۔۔ ۔۔۔ کوئی نھی برداشت کرے گا یہ لفظ کسی کی ماں بھن بیٹی کے لیے استعمال ھوں ۔۔۔تو اس لفظ کو "پاک ھستیوں" سے بھی منسوب نھی کرنا چاھیے
جب تک بندہ معاف نہ کرے اللہ معاف نھی کرتا حقوق العباد کا ڈنکہ تو سبھی بجاتے ھیں اگر وھی بندہ اللہ کا مشرک ھو یعنی نماز نہ پڑھتا ھو فرض روزہ نہ رکھتا ھو زکوت نہ دیتا ھو تو کیا وہ اللہ کا مجرم نھی جو اللہ کا مجرم ھے اس پر حقوق العباد کا نفاذ کیسے ممکن ھے ؟؟؟؟؟ جواب عملی درکار نوٹ قرآن کی رو سے نماز نہ پڑھنے والا کافر
شب برات دین کے معاملے میں پیروی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی ھے بات یہاں شب برات کو عبادت کرنے نہ کرنے کی نھی ھے بات یہ ھے جو فرسود عقیدہ اس رات سے جوڑ دیئے گئے وہ ویسے نھی ھیں جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم صحابہ کرام رضوان سے منسوب ھیں ۔۔۔