اب اس قدر بھی تو ب آبرو نہ سمجھا جائے کہ آرزو کی مری آرزو نہ سمجھا جائے تمھاری یاد کا ھر زخم رستا رھتا ھے میں باوضو ھوں مگر با وضو نہ سمجھا جائے میں اپنے آپ سے خلوت میں بات کرتا ھوں اسے مرض اے مرے چارہ جو نہ سمجھا جائے وہ اپنا عکس اگر مجھ میں دیکھ ھی نہ سکے تو آئینے کو میرے روبرو نہ سمجھا جائے میں صرف سنتا ھوں اور صرف بولتا وہ ھے اسے خدا کے لیے گفتگو نہ سمجھا جائے بھٹک رھا ھے دل اگر نماز میں تو میاں جو قبلہ رو ھے اسے قبلہ رو نہ سمجھا جائے
گلا بیٹھا ھے کٹنے کی ھوس میں ھچکیاں بھر کر چلا ھے کوئی ترکش میں قفس کی تتلیاں بھر کر کھڑے ھو بارشوں کی آس میں کیا کشت دل والو کوئی بیٹھا ھوا ھے بادلوں میں بجلیاں بھر کر یہاں تو حرف کا ھونٹوں پہ آتے دم نکلتا دل دیوانہ دامن میں چلا ھے عرضیاں بھر کر تبسم زیر لب بھی عشق کو موج تسلی ھے سمندر سو گیا دامن میں خالی سیپیاں بھر کر کسی نے جب دل برباد کا احوال پوچھا بگولے رہ گزر کی خاک لائے مٹھیاں بھر کر ھمارے شوق کا حاصل ھے یہ اب کوئی کیا ٹھہرے کھڑے ھیں جیب میں دامن کی اپنے دھیجیاں بھر کر محمد رئیس علوی
ڑ ڑنگا معنی گاڑی بانی کنگھرو یا لکڑی کی چنگاٹ جو رتھ بیل میں باندھی جاتی زمین پر رگڑتے ھوئے آواز پیدا کرتی ھے تاکہ بیلنس متوازن رھے اور آگے آنے والی چیز کو گاڑی کا پتہ چلے
انسان کو وھم میں مبتلا نھی ھونا چاھیے کم سے کم اگر دوسرے پر یقین نھی آ رھا تو خود پہ یقین پکا ھونا چاھیئے آپکی عمر میں آپ نے کچھ نھی تو بھت کچھ سیکھا ھو گا ۔۔۔ ھم جیسے تو کئ آ کے چل بسے ھونگے آپ ھی میں کمال کا ظرف ھے تو کوئی ایک انسان تو کمایا ھوتا ۔۔۔زندگی بھر میں
یہ وقت گزاری بھی انسان سے کیا کچھ کرواتی کبھی محنت کبھی محبت کبھی گناہ کبھی نیکی کبھی ویلا پن کبھی خالی پن کبھی ھجوم دنیا میں مشغول تو کبھی رب العالمین کے آگے سر بسجود ۔۔۔ یہ وقت گزاری انسان کو کنگھال کر موت کے منہ میں لیجاتی ھے اور انسان سے اس کا سارا کیا دھرا پوچھتی ھے یہ وقت گزاری وقت کے حاکم سے مانگو تو یھی بہتر ھے