___اے پیر فقیر محبت کے مجھے دے تعویز محبت کے تیرا نام سنا ہے لوگوں سے___تیرے عمل کا کافی چرچہ ہے میں رب کو چھوڑ کے آیا ہوں___لکھ جلدی سے تعویز میرا جلدی سے بتا کیا خرچہ ہے___ایسا ہی نہ ہو وہ چل نکلے میری مشکل کا نہ حل نکلے___کوئی کھول کتاب وظیفوں کی___کوئی انتر منتر پھونک سائیں کوئی دھاگہ باندھ کلائی پر___جو اثر کرے ہرجائی پر مجھے چھوڑ کے وہ پھر جائے نہ___میرے نام کے چلّے کاٹے وہ جیسے ہی کہوں تُو میرا ہے___فورا ہی بات کو مانے وہ میرے سوہنے موہنے پیر سائیں___تیرے ہاتھ ہے کیا تقدیر سائیں ؟ یا یہ نظروں کا دھوکہ ہے___ دیتا ہے تسلی جھوٹی تُو ہندسوں کے کھیل سے واقف ہے___ تیرے بس میں نہی تو سیدھا کہہ مجھے رب کی چوکھٹ پانے دے___مجھے اس کا در کھٹکا نے دے