جسے رستہ بدلنا ہو‘ اُسے رستہ بدلنے سے جسے حد سے نکلنا ہو اُسے حد سے نکلنے سے نہ کوئی روک پایا ہے نہ کوئی روک پائے گا تمہیں کس بات کا ڈر تھا مجھے بے شک جگا دیتے میں تم کو دیکھ ہی لیتی تمہیں کوئی دعا دیتی کم از کم یوں تو نہ ہوتا مرے ساتھی حقیقت ہے تمہارے بعد کھونے کے لیے کچھ بھی نہیں باقی🔥🔥 مگر کھونے سے ڈرتی ہوں میں اب سونے سے ڈرتی ہوں💔
کہا تھا ناں! کہا تھا ناں! مجھے تم اِس طرح سوتے ہوئے مت چھوڑ کرجانا مجھے بے شک جگا دینا بتا دینا! محبت کے سفر میں ساتھ میرے چل نہیں سکتے جدائی کے بحر میں ساتھ میرے جل نہیں سکتے تمہیں رستہ بدلنا ہے مری حد سے نکلنا ہے تمہیں کس بات کا ڈر تھا تمہیں جانے نہیں دیتی کہیں پہ قید کر لیتی ارے پاگل محبت کی طبیعت میں زبردستی نہیں ہوتی
ہماری جاگتی آنکھوں کو خواب کیا دیتا وہ کم نگاہ, نظر کا حساب کیا دیتا اسے ہماری سزا بھی جزا لگی یارو وہ ہم نفس ہمیں اپنا ثواب کیا دیتا خود اس کے ہاتھ میں ٹوٹا ہوا پیالہ تھا بھلا وہ ساقی کسی کو شراب کیا دیتا گلوں کو کانچ کے اس نے بنانا چھوڑ دیا کہ اب وہ کانچ کو بوئے گلاب کیا دیتا نہ پڑھ سکے جسے کوئی بھی وہ کتاب ہوں میں مرا لکھاری مجھے انتساب کیا دیتا کھڑا تھا آئینہ بن کر وہ سامنے میرے وہ خود سوال تھا , مجھ کو جواب کیا دیتا کیے تھے چھید کئی بانسری نے ہاتھوں میں میں اس کے ہاتھ میں ٹوٹا رباب کیا دیتا فسانے اس نے جفا کے تھے سب لکھے شہزاد وہ شخص مجھ کو وفا کی کتاب کیا دیتا
تجھے کھو کر بھی، تجھے پاؤں جہاں تک دیکھوں حُسنِ یزداں سے تجھے حُسنِ بُتاں تک دیکھوں تُو نے یُوں دیکھا ہے، جیسے کبھی دیکھا ہی نہ تھا میں تو دل میں تِرے قدموں کے نِشاں تک دیکھوں فقط اِس شوق میں پُوچھی ہیں ہزاروں باتیں میں تِرا حُسن، تِرے حُسنِ بیاں تک دیکھوں میرے ویرانۂ جاں میں تِری یادوں کے طُفیل ! پُھول کِھلتے نظر آتے ہیں، جہاں تک دیکھوں وقت نے ذہن میں دُھندلا دیئے تیرے خَدوخال یُوں تو میں، ٹُوٹتے تاروں کا دُھواں تک دیکھوں
آج کى شب تو کسى طور گزر جائیں گی ۔۔ آج کے باد مگر رنگ وفا کیا ہو گا۔۔ عشق حیراں ہے سر شہر سبا کیا ہو گا ۔۔ میرے قاتل ترا اندازِ جفا کیا ہو گا ۔۔ آج کى شب تو بہت کچھ ہے مگر کل کے لیے ۔۔ ایک اندیشہ، بے نام ہے اور کچھ بھی نہیں ۔۔ دیکھنا یہ ہے کے کل تجھ سے ملاقات کے بعد۔۔ رنگ امید کھلے گا کے بکھر جائے گا۔۔ وقت پرواز کرے گا ٹھر جائے گا۔۔ جیت ہو جائے گی یا کھیل بگڑ جائے گا ۔۔۔ خواب کا شہر رہے گا کے اجڑ جائے گا ۔۔۔
آج کی شب توکسى طور گزر جائیں گى۔ رات گہری ہیں مگر چاند چمکتا ہے ابھى ۔۔🌹 میرے ماتھے پہ تیرا پیار دمکتا ہے ابھى ۔۔🌹 میرى سانسوں میں تیرا لمس مہکتا ہے ابھى۔۔🌹 میرے سینے میں تیرا نام دھڑکتا ہے ابھى ۔۔🌹 زیست کرنے کو میرے پاس بہت کچھ ہے ابھى ۔۔🌹 تیرى آواز کا جادو ہے ابھى میرے لیے۔۔🌹 تیرى ملبوس کی خوشبو ہے ابھى میرے لیے ۔۔🌹 تیرى بانہیں ، تیرا پہلو ہے ابھى میرے لیے ۔۔🌹 سب سے بڑھ کر میرى جان!تو ہے ابھى میرے لیے ۔۔🌹
تُو ملا ھے تو یہ احساس ھوا ھے مجھ کو🌹 یہ میری عمر محبت کے لیے تھوڑی ھے🌹 اک ذرا سا غمِ دوراں کا بھی حق ھے جس پر🌹 میں نے وہ سانس بھی تیرے لیے رکھ چھوڑی ھے🌹
کچھ ایسا هو یہ شام ڈھلے🌹 کوئی ہاتھ میں تھامے ہاتھ میرا🍁 کوئی لے کے مجھ کو ساتھ چلے...🌹... کوئی بیٹھے میرے پہلو میں🍁 میرے ہاتھ پے اپنا ہاتھ دھرے......🌹 اور پونچھ کے آنسو آنکھوں سے🍁 وہ دھیرے سے یہ بات کہے.......🌹 یوں تنہا سفر اب کٹتا نہیں🍁 چلو ہم بھی تمھارے ساتھ چلیں...🌹...
”کہو وہ چاند کیسا تھا ؟“ کہو ، وہ دَشت کیسا تھا ؟ جِدھر سب کچھ لُٹا آئے جِدھر آنکھیں گنوا آئے کہا ، سیلاب جیسا تھا، بہت چاہا کہ بچ نکلیں مگر سب کچھ بہا آئے کہو ، وہ ہجر کیسا تھا ؟ کبھی چُھو کر اسے دیکھا تو تُم نے کیا بھلا پایا کہا ، بس آگ جیسا تھا ، اسے چُھو کر تو اپنی رُوح یہ تن من جلا آئے