خیال ترک تمنا نہ کر سکے تو بھی
اداسیوں کا مداوا نہ کر سکے تو بھی
کبھی وہ وقت بھی آئے کہ کوئی لمحۂ عیش
مرے بغیر گوارا نہ کر سکے تو بھی
خدا وہ دن نہ دکھائے تجھے کہ میری طرح
مری وفا پہ بھروسا نہ کر سکے تو بھی
"خدا کو خط لکھیں گے اور کہیں گے کے اے مالک "
"سبھی کے آ گۓ ہیں پر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہمارے دن نہیں آۓ"
مانا کہ تیرے حسن کے چرچے بهی بہت ہیں
. . . . . . .
مگر ہم بهی وہ پهول ہیں جو ہر باغ میں نہیں ملتے
تب تم سمجھو گے کہ ہر دکھ، ہر ہار اور ہر جیت تمہیں اللہ تک لے جانے کے مختلف بہانے تھے۔ جس دل کے ٹوٹنے پر اب تم غم کرتے ہو، اس پر پھر تم مطمئن ہو جاؤ گے۔
ٹُوٹے جو خواب تو جانا شیشے کے تھے
آنکھیں پتّھر کی تھیں اشک شیشے کے تھے
وہ آئے تو یہ درد بھی مٹ جائے
بس امید کی تار میں بیٹھا ہوں
"چاند کی چمک، رات کی خاموشی، اور دل کی دعا — خوابوں میں خوش رہو، شب بخیر!"
بہت زور سے ہنسا میں بڑی مددتوں کےبعد،
آج پھر کہا کسی نے میرا اعتبار کیجیے۔
ہائے جاناں۔۔۔۔
کہ تم آخری منزل ہو میرے سارے سفر کی...
اب مجھ سے کوئی نقل مکانی نہیں ہو گی..
کرلی نا ________چاہت پوری
اب لوگ دیکھیں گے تو کیا بولیں گے۔
سکون تو بہت چیزوں میں ہے میری جان لیکن تم سے جو ملتا ہے وہ روح کو ملتا ہے_
مرد تو صرف جمع یا نفی جانتا ہے....
لیکن عورت ضرب جانتی ہے آپ اسے جو دیں گے وہ آپ کو دگنا کر کے لوٹائے گی چاہے وہ عزت ہو محبت ہو یا پھر دھوکہ۔
تو نے جب میرا آخری خط جلایا ہوگا
اوپر جو لوڈ کا حساب لکھا تھا نظر تو آیا ہو گا
میں اور میرا دل
دونو ہی مر گے تم پر
میری روح میں اتنے اندر تک بس چکے ہو تم ، کے تمھیں بھولنے کے لئے ایک بار مرنا ہی پڑے گا
دن کے ہنگاموں میں بنتا ہے جو غم کا بادل
شب کو پھر کھل کے برستا ہے بہت رات گءے
تجھے سوچ کر کتنا سکون ملتا ہے سوچو تجھے پا کر کتنا سکون ملے گا
وہ لڑکی چاند ___ جیسی ہے
کھلتی ہوئی ___کلی سی ہے
لہجہ _______ اردو جیسا ہے
رومانوی غزل کی شاعری ہے
Teri mohabbat ny Dil main maqam kar dia
یہ کائنات اداسی بھری تھی صدیوں سے
پھر ایک روز خدا نے تمہیں اتار دیا____!!
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain