لوگ منصف نہیں ورنہ ـــــ!!!
رزق آسمان سے پورا اترتا ہے.
بہت۔۔۔۔۔۔بے اعتبار تھے ہم لوگ
ہمارے ساتھ دو فرشتے اُتارے گۓ
الٰہی ایک غم روزگار کیا کم تھا
کہ عشق بھیج دیا جان مبتلا کے لیے
ہمیں کہاں سے آئےگا لوگوں کادل جیتنا
ہم تواپنا بھی ہاربیٹھے ہیں تم پر..
دھندلی شاموں کو لپیٹ کر
دسمبر، تیرا حسن نومبر لے اڑا...
حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں
ان کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں
اف وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن
دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں
وہ ترے حسن کی قیمت سے نہیں ہیں واقف
پنکھڑی کو جو ترے لب کا بدل کہتے ہیں
پڑ گئی پاؤں میں تقدیر کی زنجیر تو کیا
ہم تو اس کو بھی تری زلف کا بل کہتے ہیں
ہمیں عشق ان سے کیوں ہوتا ہے۔۔۔
اور بے پناہ ہوتا ہے۔۔۔۔
جن کا ملنا تقدیر میں نہیں ہوتا ہے۔۔۔۔
زادِ سفر کے طور پر اس کائنات میں
اک اعتمادِ ذات ہو، کچھ اور ہو نہ ہو ...
وقت کے لہجوں میں جب لچک آنے لگے
جیسے بہاروں سے خزاؤں کا موسم آنے لگے
پہلے جل رہا تھا باہر سے میری ذات کا مکاں
اب تو جسم کو اندر سے بھی درد کھانے لگے
پھر اندھیری رات ہے ، ذات بھی ، کائنات بھی
جب روح کے رشتوں میں بھی شک آنے لگے
پیار ، عزت ، احترام یہ سب محبت کے ہیں سلسلے
شرک ہے محبت میں جب خیال کسی اور کا آنے لگے
آجاؤ ، سما جاؤ میری رُوح میں کچھ اس قدر
مجھے اپنی سانسوں سے بھی تیری مہک آنے لگے
بے لباس آئے تھے اس جہان میں
اور اتنا سفر کرنا پڑا اک کفن کی خاطر
تھی تاب حسن شوخیٔ تصویر یار میں
بجلی چمک گئی نظر بے قرار میں
اے درد دل کو چھیڑ کے پھر بار بار چھیڑ
ہے چھیڑ کا مزا خلش بار بار میں
!!محبت کا ہاتھ جانور نہیں جھٹکتا, البتہ انسان میں یہ وصف ضرور موجود ہے کہ وہ جب چاہے اپنی جانب محبت سے بڑھے ہوئے ہاتھ پہ تھوک دے...!!
اب مرے اشکِ محبت بھی نہیں آپ کو یاد
آپ تو اپنے ہی دامن کی نمی بھول گئے...
تُمہاری یاد کی دنیا میں دن سے رات کروں
کِسی کی بات چلے میں تُمہاری بات کروں
محبت میں بے مثال تھا مگر !! اب نہیں
میں اس کا انتخاب تھا مگر !!! اب نہیں
اقبال تیرے شاہین
دل کی تنہائی کو آواز بنا لیتے ہیں
شبانہ مصروف ہو تو
فرزانہ کو کال ملا لیتے ہیں
لمبی باتوں سے مجھے کوئی مطلب نہیں.....،،،
مجھے تو انکا جی کہنا بھی کمال لگتا ہے...،
اک شخص میری عمر کے عنوان لے گیا
میرے یقین کا ہر اک سامان لے گیا
کچھ خواب تھے، کہ پھول تھے، تعبیر تھی یہاں
جاتے ہوئے وہ اپنے سب پیمان لے گیا
یادوں کے پھول جس میں سجاتا رہا تھا میں
ہاتھوں سے میرے کون یہ گلدان لے گیا
تنکوں کا آشیاں جو بنایا تھا شوق سے
وہ بھی اڑا کے ساتھ میں طوفان لے گیا
وعدہ بھی ساتھ لے گیا جاتے ہوئے وہ آج
ملنے کا آخری تھا جو امکان لے گی
آج بھی آ جاتا ہے___ میرے خیالوں میں وہ
آج بھی لگتی ہے حاضری اُس غیرحاضر کی
محبت جیت جاتی اگر تم مان جاتی
میرے دل میں تم ہی تم تھی اگر یہ بات تم جان جاتی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain