آؤ ، یعقوب سے پوچھیں کہ غم ہجر ہے کیا
کس طرح درد بن جاتے ہیں گھاؤ آؤ..
روٹھے ہوئے لوگوں کو منایا جا سکتا ہے
بدلے ہوۓ لوگوں کو نہیں
تو ایسے شخص کے دل کا ملال کیا جانے
جو آئے تیری ہنسی دیکھنے کو،اور تو نہ ہنسے
سب دلیلیں تو مجھ کو یاد رہیں
بحث کیا تھی اسی کو بھول گیا
ہمارے ہاتھ تو زخمی ہیں ؛ جو ہوا سو ہوا
دعا کرو تمہیں دستک کی بددعا نہ لگے !!
شبِ فراق اچانک... خیال آیا مُجھے
کہ مَیں چراغ نہ تھا، اُس نے کیوں جلایا مُجھے؟
کہاں مِلا مَیں تُجھے یہ سوال بعد کا ہے
تو پہلے یاد تو کر... کس جگہ گنوایا مُجھے
ہمارے درد کی عمریں دراز کر دی گئیں
ہمارے پاس مسائل کا حل نہیں تھا
ہر وہ شخص جو اچھے طریقے سے حکم دیتا ہے اس نے ماضی میں ضرور دوسروں کی اطاعت کی ہوگی اور اگر انسان اپنی زندگیوں سے محبت اور نرمی کو نکال دیں تو انہیں کبھی سکون نہیں مل سکتا ہے ۔۔۔ لیکن سوبار انکار ایک جھوٹی ہاں سے بہتر ہے...
جو حرفِ ہجر کو دیتا تھا وصل پر ترجیح..!!
وہ ایک شخص ابھی تک مرے دھیان میں ہے..!!
بھلے نہ رابطہ سہی باہم اختلاف سہی..!!
یہ کچھ تو ہے جو ترے میرے درمیان میں ہے..!!
چہرے پہ میرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن
کیا روز گرجتے ہو برس جاؤ کسی دن
رازوں کی طرح اترو میرے دل میں کسی شب
دستک پہ میرے ہاتھ کی کھل جاؤ کسی دن
پیڑوں کی طرح حسن کی بارش میں نہالوں
بادل کی طرح جھوم کے گھِر آؤ کسی دن
*دنیا فریب دے کر__ ہنرمند ہوگئی !*
*ہم اعتبار کر کے__ گناہ گار ٹھہرے !
مل جائے تو قدر نہیں کرتے ویسے ۔!!
مخلص دلوں کے لیے ترستے ہے لوگ ۔!!
tery bin ab na lain gy aik bhi dam tujhy kitna chahny lagy hum
یہ رات مسلط ہے جب تک
یہ شمعیں جب تک جلتی ہیں
یہ زخم جہاں تک چبھتے ہیں
یہ سانسیں جب تک چلتی ہیں
تم اپنی سوچ کے جنگل میں
رہ بھٹکو اور پھر کھو جاؤ
"اب سو جاؤ"
وہ ملے اگر تو اسے کہوں اے گلاب شخص
کوئ تجھ سا کیا تیری خاک پا نہ ہو سکا..
بے رخی آپ کی سر آنکھوں پر یو ذلیل کرنے کا سو بار شکریہ
اور اتنی پیاری کیوں ہو تم*
*بچپن میں صابن کھاتیں تھی کیا*
زندگی کی اتنی بینڈ بجی ہوئ ھے کہ کتا بھی
بھونک جائے تو لگتا ھے کہ نصیحت کر کے گیا ھے ۔۔
ان تمام خوبصورت دِلوں کو سلام جو دھڑکتے ہیں ٹوٹتے ہیں بکھرتے ہیں اور پھر بھی محبت کرتے ہیں__________!!
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain