ایسی غُربت تھی "محبت کی دنیا "میں
اُس سے ملنے کے بھی اَسباب نہیں ہوتے تھے
تھکاوٹ سے …!!
ذہنی الجھنوں سے…!!
وقتی پریشانیوں سے…!!
خود کی حالت سے …!!
تھک کے…!!
اگر کچھ سکون اور ہے…!!
تو تمہارا گلے لگنا ہے…!!
چیزیں جو خوف زدہ کر دیتی ہیں...!!
اونچی آواز ،
ڈھلتی شامیں ،
طوفانی راتیں ،
احساس سے عاری پتھر نما دل ،
مغلظات بکتی زبانیں ،
سخت آزمائش کے دن ،
اور...
منافقت میں لپٹے یقین کا قصیدہ پڑھتے انسان...!!!
محبت مذاق یا کوی کھیلونا نھی ھے
مگر لوگ محبت سیے کھیل کر مذاق بنا دیتے ھیں
لفظ لڑکی
تشریح
ویلیاں، نکمیاں ، کوجیاں ، چوڑیلیاں
کھڑوس ، بلائیں ،
جلوں مت کڑیوں
لفظ لڑکا
تشریح
شرافت کے نمونے ، مما کے شہزادے ،
بابا کے لاڈلے ، بہنوں کے دولارے ،
شونے مونے ، تے رج کے سوہنے
لڑکیو اگر شک ہو تو مجھےہی دیکھ لو
*لڑکیاں وہ مخلوق ہے ۔۔۔*
*جو روتے ہوئے بھی ۔۔*
*فوراً شیشہ دیکھتی*
*ہیں کہ کیسی لگ رہی ہوں۔۔*
تمہیں اتنی بار مانگا ہے رب سے
کہ اب ہاتھ اٹھاتے ہی فرشتے کہتے ہیں
تینوں اور کوئی کام نہیں
*نئی بکواس سٹارٹ ہونے والی ہے *
*میلے بابو نے مونگ پھلی تھائی*
*بندہ رکھ کے چپیڑ مارے *
محبّت میں الہام ہوتے ہیں ، محبوب اگر ملاوٹ کر رہا ہو تو دل کو خبر ہو جاتی ہے
جہاں شوہروں کو یہ شکائت ہے کہ عورتیں بولتی بہت ہیں وہاں بیگمات کو یہ شکائت ہے کہ مرد سنتے کہاں ہیں
سر میرا دادا فوت ہوگیا چھٹی چاہۓ
ٹیچر: یہ تم نے کیا مذاق بنایا ہوا یے کبھی دادا فوت کبھی دادی فوت
سر میرا کوئ قصور نہیں .دادا فوت ہو تو دادی شادی کرلیتی ہے دادی فوت ہو تو دادا شادی کرلیتا ہے
پہاڑی علاقوں میں فوگ
میدانی علاقوں میں سموگ اور کنواروں کی زندگی میں سوگ اس سال بھی جاری رہے گا
سنا ہے میک اپ کو اردو میں آلات برائے
درُستگی و مُرمت خواتین کہتے ہیں.
مٹھاس کم کرو لہجے کی ،بات کھلنے دو
نظر ملا کے کرو بات، ذات کھلنے دو
یہ کائنات ہمارے ہی قلب میں ہے خفی
سو اپنی ذات پہ یہ کائنات کھلنے دو
ہمارے ہاتھ میں سب کچھ ہے یا کہ خوش فہمی
بڑھا کے ہاتھ ملاؤ یہ ہات کھلنے دو
بہت سے راز کھلیں گے یاں کج کلاہوں کے
ہمارے ساتھ ہوئے حادثات کھلنے دو
عداوتوں پہ نہ ڈالو مؤدّتوں کے حجاب
چھپا ہے جو بھی پسِ التفات کھلنے دو
شام ڈھلتی ہے خَزاں کی اوڑھنی اوڑھے ہوئے
سوکھتے جاتے ہیں پتّے __، ڈوبتا جاتا ہے دِل
ایک شام پھر یوں ھوا کہ ھواؤں کی ضد پر
بجھتے ھوۓ اک چاغ نے جلنے کی ٹھان لی
لوگ اپنی شروع میں دی گئی محبت اور توجہ کا بدلہ آخر میں سود سمیت اذیت دے کر واپس لیتے ہیں__!!
خاص لوگوں سے عرض ہے اتنی
راہ میں کوئی پڑا نہیں ہوتا
ہم ایسے عام سے چہروں کو کون پوچھتا ہے
یہاں اداؤں کی قیمت ہے ، سادگی کی نہیں
میں سارے شہر کی ہمدردیوں کا کیا کرتی
مجھے کسی کی ضرورت تھی ، ہر کسی کی نہیں
فراق میں لذتیں ہیں اتنی تو سوچتا ہوں
وصال اُس کا نصیب ہو گا تو کیا بنے گا---!!!
جو دُور رہ کر حرارتِ جاں بنا ہوا ہے
وہ شخص میرے قریب ہو گا تو کیا بنے گا !
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain