مٹھاس کم کرو لہجے کی ،بات کھلنے دو
نظر ملا کے کرو بات، ذات کھلنے دو
یہ کائنات ہمارے ہی قلب میں ہے خفی
سو اپنی ذات پہ یہ کائنات کھلنے دو
ہمارے ہاتھ میں سب کچھ ہے یا کہ خوش فہمی
بڑھا کے ہاتھ ملاؤ یہ ہات کھلنے دو
بہت سے راز کھلیں گے یاں کج کلاہوں کے
ہمارے ساتھ ہوئے حادثات کھلنے دو
عداوتوں پہ نہ ڈالو مؤدّتوں کے حجاب
چھپا ہے جو بھی پسِ التفات کھلنے دو
شام ڈھلتی ہے خَزاں کی اوڑھنی اوڑھے ہوئے
سوکھتے جاتے ہیں پتّے __، ڈوبتا جاتا ہے دِل
ایک شام پھر یوں ھوا کہ ھواؤں کی ضد پر
بجھتے ھوۓ اک چاغ نے جلنے کی ٹھان لی
لوگ اپنی شروع میں دی گئی محبت اور توجہ کا بدلہ آخر میں سود سمیت اذیت دے کر واپس لیتے ہیں__!!
خاص لوگوں سے عرض ہے اتنی
راہ میں کوئی پڑا نہیں ہوتا
ہم ایسے عام سے چہروں کو کون پوچھتا ہے
یہاں اداؤں کی قیمت ہے ، سادگی کی نہیں
میں سارے شہر کی ہمدردیوں کا کیا کرتی
مجھے کسی کی ضرورت تھی ، ہر کسی کی نہیں
فراق میں لذتیں ہیں اتنی تو سوچتا ہوں
وصال اُس کا نصیب ہو گا تو کیا بنے گا---!!!
جو دُور رہ کر حرارتِ جاں بنا ہوا ہے
وہ شخص میرے قریب ہو گا تو کیا بنے گا !
ہم نے مانا کہ ہم اوروں سے الگ تھے لیکن
زرد اتنے تو نہیں تھے ___کہ گرائے جاتے !
دنیا کی ہلچل میں اگر کوئی ایسا شخص ملے جو آپ کو سمجھتا ہو اُسے پکڑے رہو, کیونکہ جو لوگ ہمیں نہیں سمجھتے وہ تعداد میں بیشمار ہیں۔
اک تم ہو کہ شہرت کی ہوس ہی نہیں جاتی
اک ہم ہیں کہ ہر شور سے اکتائے ہوئے ہیں
نہ نیم ، نہ حکیم ، نہ کسی عالم سے حل ھونگے
یہ جو دل کے مسئلے ھیں ،اسی ظالم سے حل ھونگے
زندگی کا سب سے افسوسناک حصہ وہ ہوتا ہے جب وہ شخص جس نے آپ کو بہترین یادیں دی ہوں، خود ایک یاد داشت بن جائے۔
درد اٹھتا بھی رہے آنکھوں سے چھلکے بھی نہیں
سیکھتـــــــــے سیکھتــــــــــے آتا ہے شکایت کرنا
ہم کو آدابـــــــــ محبت نہیــــــــں آتـــــــــے آرزو
ہم کو بس ٹوٹــــــــــ کہ آتا ہــــــــــے محبت کرنا
فلسفــے، پڑھـائ، لوگـــــ، اداســی، سوچیـں، ذمے داریاں
میرے اپنے مسائل تھوڑے ہیں ، تم محبت اٹھا لائے ہو
بہت بے کیف لمحے ہیں عجب بوجھل طبعیت ہے
نہ غم سے دل بہلتا ہے، نہ خوشیاں راس آتی ہیں
*عجیب ہے میرا اکیلا پن بھی نہ خوش ہوں نہ اداس ہوں بس خالی ہوں اور خاموش ہوں ........
ﺳَﺐ ﺭَﻧﮓ ﮐِﯿﮯ ﺍُﺱ ﻧﮯ ___ ﺭَﻗِﯿﺒﻮﮞ ﮐﮯ ﺣَﻮﺍﻟﮯ
ﺍَﻭﺭ ﻣُﺠﮫ ﺳﮯ ﯾﮧ ﻭَﻋﺪَﮦ ﺗﮭﺎ__ ﻭَﻓﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﻟِﯿﮯ ﮨﮯ___!!!
وہ معجزے سکُوت کے ہم کو بھی عطا کر
ہم حالِ دل سناٸیں مگر ۔۔۔۔۔۔گُفتگُو نہ ہو
ہو جاتے ہیں یادوں کے دریچوں میں مقید!!
کچھ لوگ سہولت سے بُھلائے نہیں جاتے.
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain