اُس کی باتیں تو پُھول ہوں جیسے
باقی باتیں ببُول ہوں جیسے
چھوٹی چھوٹی سی اُس کی وہ آنکھیں
دو چنبیلی کے پُھول ہوں جیسے
اس کا ہنس کر نظر جُھکا لینا
ساری شرطیں قبول ہوں جیسے
کتنی دِلکش ہے اُس کی خاموشی
ساری باتیں فضُول ہوں جیسے
تیرے چہرے کے ہزار چاہنے والے،
تیری روح کا میں اکلوتا دیوانہ۔۔۔
حقیقت سے بہت دور تھیں خواہشیں میری..
پھر بھی خواہش تھی کہ اک خواب حقیقت ہوتا.
پہلے زلف دی "ف" توں لگے فتوے
ول نین دے "ن" تے بس ہو گئ
اساں "د" توں ساقی دلبر پڑھیا
ساڈی عشق دی "ع" تے بس ہو گئ.
تجھ سے جو دھیان کا تعلق ہے
پکّے ایمان کا تعلق ہے
میری چپ کا تیری خموشی کا
روح اور جان کا تعلق ہے
تو سمجھتا ہے میرے لہجے کو
اور یہ مان کا تعلق ہے
تجھ سے میرا خیال کا رشتہ
یعنی وجدان کا تعلق ہے
کوئی رہتا ہے دل میں یوں جیسے
گھر سے سامان کا تعلق ہے
بن کہے بن سنے ہی اپنے بیچ
عہد و پیمان کا تعلق ہے
تم کو پتا ہے تم سے بچھڑنے پے کیا ہُوا
ہم کو اکیلے چھوڑ کے ہمت چلی گئی
کل ہم تلاش میں تھے کوئی آئینہ مِلے
اب آئینہ مِلا ہے تو صُورت چلی گئی..
*تعلق روح سے ہونا چاہیے*
*دل تو اکثر بھر جایا کرتے ہیں *
کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے
سوال یہ ہے.... کتابوں نے کیا دیا مجھ کو
"زندگی واقعی بہت عجیب چیز ہے۔ کہاں ، کب ، کس کو، کس سے کیسے ملاتی ہے اور ملا سکتی ہے؟ انسان عقل کی ساری گتھیاں سلجھالے، پھر بھی کبھی جان نہیں پاتا۔
جان سکتا ہی نہیں۔ اور پھر جب آپ کچھہ نہیں سمجھ سکتے تو سو جاتے ہیں “
" مخلصی " تعلق کا حُسن ہے اور جہاں رشتے " نبھانے " ہوں ، وہاں پرکھا نہیں کرتے، یقین کرتے ہیں ۔
زندگی کی بھی عجب جادوگری ہے
کہیں سے بھی شروع ہو کر کھلکھلانے لگتی ہے
دھیان کوئی نہیں دیتا دھڑکتے دل پر
اعلان تین بار بڑے غور سے سنا جاتا ہے
آخری نیند خُوب سوئیں گے!
در پہ دستک کا ڈر نہیں ہوگا _____!!!!
گھر بھی تو نہیں چلتا ہے اب اِک کمائی سے
پھر روکیں اُنہیں کیسے بتا بیوفائی سے
رہ بھی تو نہیں سکتے ہیں دیکھے بِنا اُنہیں
تہمت عزیز ہے ہمیں اب پارسائی سے
ہر چیز میں تو اُن کے جھلکتا کمال ہے
گر جھوٹ بھی وہ بولیں تو بولیں صفائی سے
اِک دورِ بے کراں ہے کہ ملنے سے اجتناب
بڑھنے لگی ہیں دوریاں یوں آشنائی سے
رشتوں کے تقدس کا کہاں رونا روئیے
بھائی بھی نہیں ملتا ہے اب تو بھائی سے
ہر اِک غلط صحیح ہے بس اپنا صحیح غلط
اب لڑ تو نہیں سکتے ہیں ساری خدائی سے
سب کہ لۓ نہ سوچو کوئی تم خُدا نہیں
تم بھی چُھڑاؤ جان رضا اس برائی سے
ہائے ہم بھی کتنے سادہ تھے صاف کہہ دیا ان سے
آپ لگتے ہیں اچھے ، آپ سے عشق ہے ہمیں۔۔۔
اک فقط تجھ سے تغافل نہیں برتا میں نے
ورنہ ہر ذات سے مفـرور ہوئے پھرتے ہیں.!!
ہم کہ روٹھی ہوئی رت کو بھی منا لیتے تھے
ہم نے دیکھا ہی نہ تھا موسمِ ہجراں جاناں
اظہار
ہمیں لفظوں کی حاجت تھی
نہ حرفوں کی کوئی چاہت
نہ کچھ "کہنے" کی تھی حسرت
ہمیں خود پر یقیں سا تھا
بہت اس پہ بھروسہ تھا
ہمیں کہ آج کہنا پڑ گیا ہے
ہمیں اک دکھ کہ سہنا پڑ گیا ہے
ہمیں اقرار کرنا پڑ گیا ہے
"ہمیں اظہار کرنا پڑ گیا ہے"
ہتھیار آپ کو ایک جھٹکے میں مار دیتے ہیں، لیکن الفاظ آپ کو ذہنی طور پر آہستہ آہستہ مارتے ہیں۔ ایک لفظ یاں ایک جملے کی بازگشت آپ کی دنیا ہلا دیتی ہے۔
چھوٹی عمروں میں اذیتوں کا بوجھ اٹھانے والوں کو صبر کی تلقین مت کیجیے_!
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain