فکرِ معاش،ماتمِ دل،غمِ دنیا،غمِ جاناں"
"آج سب سے معذرت کہ طبیعت اُداس ہے"
موسیقی کے سارے ساز اُس دُھن کو بکھیرنے سے قاصر ہیں جو اُس کی کھنکتی چوڑیوں سے جنم لیتی ہے
اپنی پسندیدہ عورت کو سنبھال کر رکھا کرو بعد میں پچھتاوے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا
دل کی دنیا میں بےوفائی کی داستان رہی
میری یہ کہانی میرے ہی آس پاس رہی
بہار میں خزاں سے بھی میری ملاقات رہی
ہر موسم میں تیرے ملن کی ہی آس رہی
*تمہاری مسکراہٹ میری دنیا کو حسین بناتی ہے*
*تمھاری ہر ہنسی میرے دل کا سکون ہے*
اس تسلّی سے لگے جاتے ہیں دیوار کے ساتھ
تیری بانہوں کا سہارا بھی کبھی آئے گا__!
میں کیا کہوں کہ مجھے صبر کیوں نہیں آتا
میں کیا کروں کہ تجھے دیکھنے کی عادت ہے
اگر کسی کا جانو نہی ہے تو وہ عید کے کپڑوں کا رنگ مجھ سے پوچھ لے
درمیاں جُھمکوں کے چاند بھی تو ھے
دِل نے بے وجہ تو نہیں حشر اُٹھا رکھا
کُچھ چُوڑیاں خرید کے رکھ لی ہیں تیرے لیے ،
کبھی جو عید ساتھ کی ___ تو پہنا دوں گا
وہ جو اپنے حال میں خوش رھے،وہ جو شخص شکوہ بلب نہ ہو
تم اسے ہراؤگے کس طرح جسے جیتنے کی طلب نہ ہو
رنجِ شبِ فراق کی مٹ جائیں سختیاں ---!!!
یوں ہی اگر خیال ترا مہرباں رھے ---------
شب بھر کے ٹھکانے کو، اِک چھت کے سِوا کیا ھے
کیا وقت پہ گھر جانا، کیا دیر سے گھر جانا
ہزار چہرے ھجوم دنیا!!!!
تیری ہی آخر تلاش کیوں ھے.
اٹھا سکے تو اٹھا حشر ، اے دلِ بُزدل
کہاں تلک تیری دَھک دَھک سنا کرے کوئی
مجھے بھی شوق نہ تھا داستاں سنانے کا
اس نے بھی پوچھا تھا حال ویسے ہی ۔
دوسرے جہاں میں بھی بخشش کیسے ہوگا ۔ نیکی سے زیادہ کسی نامحرم کی یاد کی بوجھ ہے کاندھے پر !
کیا خَبر اُن کو بھی آتا ھو ٫ کبھی میرا خَیال
کِن مَلالوں میں ھُوں , کیسا ھُوں , کہاں رَھتا ھُوں؟
تُم دِل کی پَرتیں کھول کَر تَہہ دَر تَہہ اُسے مَت دِکھاؤ
جو آنکھ کی نَمی تک نہیں پَڑھ سَکتا۔
سب جرم میری ذات سے منسوب ہیں
کیا میرے سوا اس شہر میں معصوم ہیں سارے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain