اُس کے چہرے کی تمـازت سے پگھلتے تھے حروف
جیسے کُہســـــار پہ کِرنوں کے قبیلـــــے اُترے
جیسے گُھـــــل جائے خیالوں میں حنا کا موسم
جیسے خوشبو کی طرح رنگ نشیلــــے اُترے
سوچ رہا ہوں سنگل لوگوں کے لیے ایسا ہوٹل کھولوں
جہاں خود ویٹر آکر اُن سے پوچھے میلے بابو نے تھانا تھایا
جو زرا کسی نے چھیڑا تو چھلک پڑیں گے آنسو
کوئی مجھ سے یہ نہ پوچھے "میرا دل اداس کیوں ہے"
ھماری کشتی تو بیچ بھنور میں ھے
چلو اچھا کیا ھم سے کنارہ کر لیا تم نے۔
جُستجو بھی مِرا فن ہے مِرے بچھڑے ہُوئے دوست
جو بھی دَر بَند مِلا اُس پہ صدا دے دُوں گا
رُوحوں کے متبادل نہیں ہوتے، رُوحوں کے چاہنے والے بِچھڑیں تو فنا ہو جاتے ہیں..!
ﺍﺏ ﻭﮦ ﻧﯿﻨﺪﻭﮞ ﮐآ ﺍُﺟﮍنآ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮔﮯ
ﻭﮨﯽ ﺍﭼﮭّﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻨﮭﯿﮟ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﮐھآۓ ﻧﮧ ﮔﺌﮯ
اک تیرے سوآ کچھ اور نآں مآنگوں میں تو میرے رب سے
آنکھوں میں آنسو آئیں تو خود ہی پونچھ لینا
کوئی اور پونچھے گا تو سودا کرے گا
نظر رکھ دوں تمھارے چہرے پر
عمر بھر پھر نہ اٹھاؤں میں .!!
پاس تیرے سکون ملتا ھے .!!
دور تجھ سے کہیں نہ جاؤں میں
تیری آنکھیں ہیں یا سمندر .!!!!!
تیری آنکھوں میں ڈوب جاؤں میں
مجھکو رکھ لو نہ پاس اپنے!!!!!
غم کی دنیا میں کھو نہ جاؤں میں
میری دنیا ھے تم سے جاناں!!!!!
تم سے بچھڑے تو مر نہ جاؤں میں.
جس کے ساتھ پینی تھی وہ تو آیا نہیں
خیر…........"چائے" اچھی تھی۔۔۔۔۔۔..۔۔۔
آپ وہی ہیں نہ جو مجھے فالو نہیں کر رہے۔
تمہیں کیا خبر کہ آنکھیں کتنی تھک چکی ہیں
موسم کتنے گزر چکے ہیں
حسرت اگر چاند پانے کی ھو تو
پھراسے تمام داغوں کیساتھ قبول کرنا پڑتا ھے !!
روز تاروں کو نمائش میں خلل پڑتا ہے
چاند پاگل ہے اندھیرے میں نکل پڑتا ہے
ایک دیوانہ مسافر ہے مری آنکھوں میں
وقت بے وقت ٹھہر جاتا ہے چل پڑتا ہے
"میری اوقات سے زیادہ میری جھولی میں ہے، یہ سب میرے رب کا خاص کرم ہے۔ شکر ہے اس ذات کا جس نے عیب چھپائے اور عزتوں سے نوازا۔"
._لاکھوں حسین سامنے آئے بھی تو کیا _
._ہم نے آنکھوں کو سی لیا تمہیں دیکھنے کے بعد
آنکھوں میں آنسو آئیں تو خود ہی پونچھ لینا
کوئی اور پونچھے گا تو سودا کرے گا
_کتنی دلکش ہوتی ہے نہ محبت کی تاثیر_
_خوش جب تم ہوتے ہو لب ہمارے مسکراتے ہیں_
مجھے رکھنا ہے تو سینے سے لگا کر رکھو
مجھ کو ان عام سے لوگوں میں نہیں آنا ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain