جن سے رُوحیں وابستہ ھو جائیں ، ان سے کسی صُورت بھی دامن نہیں چُھڑوائے جا سکتے ۔۔۔!!
تُم نہیں بچ پاؤں گی میری یاد سے
میرے تو ہم نام بھی بہت ہیں
طویل نہ سہی۔۔۔۔مختصر تو ھوگا
تیرے دل کی کتاب میں۔۔۔۔کہیں ذکر میرا
چھوڑ دیں،اور دِل کا بوجھ کم کریں
ہر چیز توجہ کے قابل نہیں ہوتی....
تُم اور میں... !!
اُن مکینوں کی طرح ہیں،
جن کے راستے مِلتے ہیں،
دِل ملتے ہیں،
پر وہ خود عمر بھر نہیں مِلتے۔
اُنہیں لگتا ہے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا.
"مگر وہ کیا جانے مجھے راتوں کو نیند نہیں آتی."
اہمیت الفاظ کی ہوتی ہے
مگر اثر ہمیشہ لہجوں کا ہوتا ہے
تاحیات کس نے پائی ہے حیات؟؟
ہم اپنے حصے کی گزاریں گے، چلے جائیں گے۔۔!!
دیا ہے دل اگر اس کو بشر ہے کیا کہیے
ہوا رقیب تو ہو نامہ بر ہے کیا کہیے
یہ ضد کہ آج نہ آوے اور آئے بن نہ رہے
قضا سے شکوہ ہمیں کس قدر ہے کیا کہیے؟
ز ہے کرشمہ کہ یوں دے رکھا ہے ہم کو فریب
کہ بن کہے ہی انھیں سب خبر ہے کیا کہیے؟
مانا کہ حیا آنکھ ملانے نہیں دیتی
ممکن نہیں کیا ایک عنایت کی نظر بھی
ہجومِ دلبراں بھی ساتھ لے کے پھرتا ہے
وہ میرا قُرب بھی مانگے ہے آفرین نہیں؟
یہ بات بُری ھے مگر آباد گھروں سے
ہم خانہ خرابوں کی طبیعت نہیں ملتی۔
میں نے سوالِ وصل جو اُن سے کِیا کبھی
بولے ، نصیب میں ہے تو،ہو جائے گا کبھی
کچھ بیگانے راستوں پر چلنے کی
ہمیں اتنی خوشی ہوتی ہے
ہمیں یہ خیال ہی نہیں آتا
کہ اگر واپس لوٹنا پڑے تو کیسے لوٹیں گے_
جائز نہیں ہجراں میں ہلکا سا تماشہ یوں..!!
یا آہ بھی مت کیجئے یا حشر اٹھا دیجئے..!!
میں مُبتلائے اذیت ہُوں، اور تُو تمام رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے
اس کو ہر سانس کی قیمت کا پتہ ہوتا ہے
زندگی جس نے گزاری ہو ـــــــ گزارے لائق
میری جَگہ کوٸی آٸینہ رَکھ لیا ہوتا نَہ !!
” جَانے تیرے تَماشِے میں مِیرا کام ہے کیا
یہ ضروری ہے کہ آنکھوں کا بھرم قائم رہے
نیند رکھو یا نہ رکھو خواب معیاری رکھو۔
دے جگہ بعد میں آنے والوں کو ادھر
کہ ہنر مندوں کے جو سر ممتاز کرے
نہیں آسان ادھر شاعر بننا میاں
یہ تو ایسے کہ قلندر پرواز کرے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain