وہ کہے آنکھ کھول باتیں کر...
اور میرے پاس اختیار نہ ہو...
مجھے ایک سانولی گرل فرینڈ
چاہئے
چٹیان تو بےوفا ہوتی ہیں
اچھا بھلا رخصت کر کے گھر لے آیا تھا
گھر والوں نے ٹھنڈا پانی مار کر جگا دیا۔۔
کوئی اس شخص سا دنیا میں کہاں ہوتا ہے
لاکھ چہروں میں جسے دل نے چنا ہوتا ہے
ہم تو اس موڑ پہ آ پہنچے ہیں محبت میں جہاں
دل کسی اور کو چاہے تو گناہ ہوتا ہے
نظر اٹھا کر ذرا دیکھ تو سہی، اک بار۔
کہ تیرے درد نے کتنا بدل دیا مجھ کو۔
دیکھ کر تمھاری مسکراہٹ ہم ہوش گوا بیٹھے
ہوش میں آنے ہی والے تھے کہ تم پھر مسکرا بیٹھے
آخر مجبوریاں ہی فتح کرتی ہیں
محبتیں ہار ہی جاتی ہیں,,,!!
اُسے عشق کسی اور سے تھا
میرا شدت سے چاہنا پسند تھا اُسے _
کاغذ کی یہ مہک ۔ یہ نشہ روٹھنے کو ہے ۔ ۔ ۔ ۔
یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی ۔
ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺗُﻮ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺑﻨﺎﺗﺎ ﮨُﻮﺍ ﻣَﯿﮟ
ﮔﯿﺖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺗُﻮ ﮔﯿﺖ ﺳﻨﺎﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻣَﯿﮟ
ﺍﯾﮏ ﮐﻮﺯﮮ ﮐﮯ ﺗﺼﻮُّﺭ ﺳﮯ ﺟُﮍﮮ ﮨﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ
ﻧﻘﺶ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺗُﻮ ﭼﺎﮎ ﮔُﮭﻤﺎﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻣَﯿﮟ
ﺗﻢ ﺑﻨﺎﺅ ﮐﺴﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﺳﺘﮧ
ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮩﯿﮟ ﺩُﻭﺭ ﺳﮯ ﺁﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻣَﯿﮟ
ﺍﯾﮏ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﮐﯽ ﺗﮑﻤﯿﻞ ﮐﮯ ﮨﻢ ﺩﻭ ﭘﮩﻠﻮ
ﺭﻧﮓ ﺑﮭﺮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺗُﻮ ﺭﻧﮓ ﺑﻨﺎﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻣَﯿﮟ
ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻟﮯ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺩُﻭﺭ ﺑﮩﺎﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗُﻮ
ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﻟﮯ ﺟﺎﺅﮞ ﮐﮩﯿﮟ ﺩُﻭﺭ ﺍُﮌﺍﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻣَﯿﮟ
ﺍﮎ ﻋﺒﺎﺭﺕ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﭘﺎﺋﯽ
ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻟﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺗُﻮ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﻣﭩﺎﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻣَﯿﮟ...
گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیں
کوئی بدلی تری پازیب سے ٹکرائی ہے
کسی نے گنتے ہوئے مجھ سے بے ایمانی کی
میں ڈھیر سارا پڑا تھا شمار سے پہلے
ہمارے ربط کو ترتیب نے بگاڑا ہے
میں اسکے ساتھ کھڑا تھا قطار سے پہلے
تُو مُجھ کو چھوڑ تو پِھر اس طرح سےچھوڑ کہ میں
گلی گلی میں پِھروں کوستا محبت کو..........
میری فطرت میں نہی ہے کسی کو بھول جانا
بھولتے وہ ہیں جن کو اپنے اپ پر غرور ہوتا ہے
تم_ ایک_ ہی_ قَسَم_ نِبھانے_ سے_ ڈر_گئے..
مُجھے_ تیری_ قَسَم دے_کر_ہزاروں نے_لُوٹا .
جب نیند سے آنکھیں بوجھل ہوں
اور اپنے آنکھ سے اوجھل ہوں
پھر نیند بھلا کب آتی ہے
جب دل میں بسنے والے بھی
اور ساتھ میں ہنسنے والے بھی
دور کہیں وہ بستے ہوں
کسی اور کے ساتھ وہ ہنستے ہوں
پھر نیند بھلا کب آتی ہت
جب غم کی رات اندھیری ہو
اور اس میں یاد بھی تیری ہو
نہ دل میں کوئی اجالا ہو
پھر نیند بھلا کب آتی ہے
پھر نیند بھلا کب آتی ہے __ !
کبھی ساتھ نہ چھوڑنے کا یقین دلا کر
بے خبر و بے حس ہو جانا ہی آج کل کی محبت ہے
بچھڑ کر یاد نہیں کتنے ماہ و سال ہوۓ
سیاہ لے کر چلے تھے سفید بال ہوۓ
یــادوں میــں بســــا رکھــا ھــــے تجھـــــــــــے اســـں قــدر
کـوئـی وقتــ بھـی پـــوچھــے تــو تیـــرا نـام بتــا دیتـے ھیـں
نہر کے ٹھنڈے پانی میں ھم عشق لڑایا کرتے تھے
وہ پانڈے مانجا کرتی تھی ہم مج نوایا کرتے تھے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain