دل سے خوبصورت بنو۔۔
شکل سے تو ویسے بھی نہیں ہو
دل کرتا تمہیں پرپوز کردوں
مگر دماغ کہتا لڑکا نکلا تو
چلتی ہی جا رہی ہے یہ عمرِ رواں کی ریل
ہم کو یہی اترنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ زنجیر کھینچئیے
ترے لیے ہی تو گزرے ہیں دشتِ شب سے ہم
وگرنہ ہم بھی ستارے تھے کتنے پیارے تھے
اَدائیں حشر جگائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
خیال حرف نہ پائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
بہشتی غنچوں میں گوندھا گیا صراحی بدن
گلاب خوشبو چرائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
قدم ، اِرم میں دَھرے ، خوش قدم تو حور و غلام
چراغ گھی کے جلائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
تھی کسی دور علیلوں کی عیادت واجب
لیکن اب , قربتِ بیمار سے , ڈر لگتا ھے
جنکی آمد کو سمجھتے تھے خداکی رحمت
ایسے مہمانوں کے آثار سے , ڈر لگتا ھے.
جو گلے مل لے میری جان کا دشمن ٹھہرے
اب , ہر اک , یارِ وفادار سے , ڈر لگتا ھے
ایک نادیدہ سی ہستی نے جھنجوڑا ایسے
خلق کو , گنبد و مینار , سے ڈر لگتا ھے
بن کے ماجوج , نمودار ہوا , چاروں اور
اِسکی یاجوج سی, رفتار سے, ڈر لگتا ھے
عین ممکن ھے یہاں سب ہوں کورونا آلود
شہر کے. کوچہ و بازار سے ڈر لگتا ھے
اب تو اپنوں سے مصافحہ بھی ہے پُر خطر میاں
یوں نہیں کہ فقط اغیار سے, ڈر لگتا ھے.
ہوا کے دوش پر اب تک دہائی دیتی ہیں.!
پرانی دستکیں اب تک سنائی دیتی ہیں.!
قفس کو توڑنے کی جستجو میں گزری ہے.!
وہ بیتی گھڑیاں مگر کب رہائی دیتی ہیں.!
نکل تو سکتا ہوں اسکی گلی سے میں لیکن.!
وہاں سے آگے نہ راہیں سجھائی دیتی ہیں.!
تو کیسے مانوں دلیلیں میں عقل کی سوچو.!
کسی کی یادیں جو پل پل صفائی دیتی ہیں.!
" ﻣﺤﺒﺖ ﺫﺍﺗﯽ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮨﮯ "
ﯾﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ ﭨﮭﺎﻥ ﻟﯽ ﺍﺏ ﮐﮯ
ﺩﻋﺎﺅﮞ ﺳﮯ، ﻭﻓﺎﺅﮞ ﺳﮯ
ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ...
ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻂ ﻟﮑﮭﻨﺎ ﮨﮯ
ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻟﻔﻆ ﮐﮩﻨﺎ ﮨﮯ
ﻧﮧ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﯾﭽﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺳﻠﮕﺘﯽ ﺭﺍﺕ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ
ﮔﻼﺑﯽ ﺷﺎﻡ ﺭﮐﮭﻨﯽ ﮨﮯ...
ﻧﮧ ﮨﯽ ﺷﺎﻡ ﮐﺎ ﺗﺎﺭﮦ
ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ
ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮ ﮐﺮ
ﺧﯿﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺠﺎﻧﺎ ﮨﮯ
ﻧﮧ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﻧﺎ ﮨﮯ
ﻧﮧ ﺗﺘﻠﯽ ﮐﻮ ﺳﺘﺎﻧﺎ ﮨﮯ
*مرشد تیرا بچھڑنا بھی میرے لیے مفید رہا*
*مرشد کہ اس خسارے کے باعث کئی خسارے گئے*
سنا ہے تم بھی راتوں کو دیر تک جاگتے ہو
محبت میں ہارے ہو یا یادوں کے مارے ہو
" سر بھی نا دکھے اسکا
جس نے دل دکھایا ہے میرا "
یہ دولت بھی لے لو، یہ شہرت بھی لے لو
بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی
مگر مجھ کو لوٹا دو بچپن کا ساون
وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی
محلے کی سب سے پرانی نشانی
وہ بڑھیا جسے بچے کہتے تھے نانی
وہ نانی کی باتوں میں پریوں کا ڈھیرا
وہ چہرے کی جہریوں میں میں صدیوں کا پھیرا
بھلائے نہیں بھول سکتا ہے کوئی
وہ چھوٹی سی راتیں وہ لمبی کہانی
کھڑی دھوپ میں اپنے گھر سے نکلنا
وہ چڑیاں وہ بلبل وہ تتلی پکڑنا
بہت قریب آکر بتایا اس نے
"دور ایسے جاتے ہیں"
تو مجھ کو دیکھ، پرکھ، اور پھر بتا مجھ کو
تیرے سوا میرے اندر کہیں پہ میں بھی ہوں؟
کبھی اس پار ملنا تم"
جہان پر خواب بوڑھے ہوں مگر تعبیر بنتی ہو
جہاں پر سات رنگوں سے مِری تصویر بنتی ہو
ہماری زلف خم کھائے تو اس کو صرف تم دیکھو
انہی خم دار زلفوں سے کوئی زنجیر بنتی ہو
وہاں پر ہاتھ باندھے مجھ کو آہ و زار ملنا تم
"کبھی اس پار ملنا تم"
"کبھی اس پار ملنا تم"
جام ھو دستِ حنائی میں، تو فتوی' یہ ھے،
تھام لو ہاتھ ___ مگر ہاتھ ھو دستانے میں،
وہ بھی سزا سناتے ہوئے سوچتا نہیں
اُس کے بغیر کوئی بھلا کیسے خوش رہے
What a nonsense
اب کے تجدیدِ وفا ہو تو بہت بہتر ہے
عشق کا رنگ نیا ہو تو بہت بہتر ہے
ہو کے مجبور بچھڑنے کے سوا سب ہےقبول
ہجر کی اور وجہ ہو تو بہت بہتر ہے
لذَّتِ عشق میں جنت کے سبھی درجوں پر
جانِ من ساتھ ترا ہو تو بہت بہتر ہے
تُمہارےدِکھنےسےآنکھیں روشن ہوں جب ہماری
پھر اپنے دِل پر بھی اپنی چلتی ہے کب ہماری
ہلا کے ہاتھوں کو الوداع اس نے جب کہا تھا
بتائیں کیسے کہ کیسی حالت تھی تب ہماری
ہوئی جو اُلجھن تو سر بہ سجدہ ہوئے ہمیشہ
ہمیں یقیں تھا کہ بات سنتا ہے رب ہماری
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain