تجھ سے کچھ اور تعلق بھی ضروری ھے میرا
یه محبت تو کسی روز بھی مر سکتی ھے
رُعبِ جمالِ یار تھا کُچھ اِس قدر کہ ہم
جلوہ بَہ قدر، تابِِ نظر دیکھتے رہے __!
ہوئی راہ ہجر، ختم ہوا شوقِ وصال....،
دل تیری حد سے بہت دور نکل آیا ہے۔
بھُلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں ! !
الٰہی ترکِ اُلفت پر ، وہ کیوں کر یاد آتے ہیں
نہ چھیڑ اے ہم نشیں ! کیفیتِ صہبا کے افسانے !
شرابِ بے خودی کے ، مُجھ کو ساغر یاد آتے ہیں
نہیں آتی تو یاد اُن کی ، مہینوں تک نہیں آتی
مگر جب یاد آتے ہیں، تو اکثر یاد آتے ہیں !
ﺍﺱ ﺷﺮﻁ ﭘﮧ ﮐﮭﯿﻠﻮﮞ ﮔﯽ ﭘﯿـﺎ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﯽ ﺑﺎﺯﯼ میں
ﺟﯿﺘﻮﮞ ﺗﻮ ﺗـﺠﮭــﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﮨﺎﺭﻭﮞ ﺗﻮ ﭘﯿـــﺎ ﺗﯿـــــﺮﯼ
ﮨﺮ ﻟﺤﻈﮧ ﺧﯿﺎﻝ ﺗﯿﺮﺍ........ ﺭﮐﮭﻮﮞ ﮔﯽ ﺻﺮﻑ ﺍﺗﻨﺎ
ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺅﮞ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺮﯼ ﺍﭨﮫ ﺟﺎﺅﮞ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺮﯼ
ﮐﭽﮫ ﮐﺮ ﻟﻮﮞ ﮔﯽ ﺣﺎﻝ ﺍﭘﻨﺎ....... ﺍﯾﺴﺎ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺴﻔﺮ
ﺁﻧﮑﮫ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮭﻠﮯ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺮﯼ
ڈھونڈ لیجے نا ذرا پھر سے خدارا ہم کو .....!!
آپ ہوتے ہیں تو ہوتا ہے سہارا ہم کو .....؟؟
تم میرے ہو میرے تھے میرے ہی راھو گے۔ دل قائم ہے اس بات پر ڈھیٹ کہیں کا
احساس کے دریچوں کو دستک کی ضرورت نہیں یہ وہ خوش بو ھے جو بند دروازوں سے بھی گزر جاتی ھے
وہ میری تنہائیوں سے واقف تھا۔
وہ میرے ساتھ یُوں تو نہ کرتا۔۔۔!!!
وہ سجدہ روح زمیں جس سے کانپ جاتی تھی
اس کو آج ترستےہیں منبر و محراب
برباد کرنا تھا تو کسی اور طریقے سے کرتے
کیوں زندگی میں زندگی بن کر زندگی سے زندگی ہی چھین لی
Na mein badlaa na tum badley mein
Kesey etbaar e inblab e asmaan ker lon
ایسے منہ نا بنا، لا دوں گا چوڑیاں
غصہ نہیں دکھا، لا دوں گا چوڑیاں
ہفتہ پڑا ہے عید میں یاد ہے مجھے
ہوتی ہے کیوں خفا، لا دوں گا چوڑیاں
نیلا' سبز' لال' کہ مہرون جامنی
پسندیدہ رنگ بتا ، لا دوں گا چوڑیاں
مسئلہ تیرا ہے کیا میں جان چکا ہوں
پلو کو مت چبا ، لا دوں گا چوڑیاں
کیا ہوا جو جیب میں مال و زر نہیں
کر کے کچھ نا کچھ، لا دوں گا چوڑیاں
وعدہ رہا کلائیاں ویران نا ہونگی
اب تو مسکرا، لا دوں گا چوڑیاں
سب پہ جس بار نے گرانى کى
اس کو يہ ناتواں اٹھا لايا
Kyon Khulta Kisi Pe Mere Dil Ka Mamla=shairo K Intikhab Ne Ruswa Kya Mujhe
یہ اذیت نہیں سہہ پاؤں گا مت چھوڑ کہ میں
تجھ سے پہلے بھی کسی شخص کا چھوڑا ہوا ہوں
رہنے دو اب کے تم بھی مجھے پڑھ نہ سکو گے
برسات میں کاغذ کی طرح بھیگ گیا ہوں میں
محبت سے جو پالا تھا وہ بچھڑا بیچ آیا ہوں
جو میری گود میں کھیلا وہ بکرا بیچ آیا ہوں
کسی کی رسم کی خاطر کلیجہ بیچ آیا ہوں
میں قربانی کے دھوکے میں کھلونا بیچ آیا ہوں
وہ منڈی تھی کسے فرصت وہاں رشتے سمجھ پاتا !
وہ کہتے تھے کہ مہنگا ہے میں سستا بیچ آیا ہوں
کس قدر ٹوٹ رہی ہے میری وحدت مجھ سے
اے میری وحدتوں والے، مجھے یکجا کر دے
اور بھی زخم کھا کے دیکھے ہیں
تیرے غم سے کوئی لذیذ نہیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain