اب نہ دامن رہا نہ دستِ جنوں،
اب ہمیں رفوِ حاجت کیسی،
واسطہ ہی کوئی نہیں جس سے،
اُس کے بارے ميں گفتگو کیسی۔۔۔۔
Ok my mistake...
بات ھے بہار ِ چمن ہی کے واسطے,,,
آیا نہیں پلٹ کے زمانہ شباب کا.
میں اک سوال کر کے پشیماں ھو گیا,,,
لچھا بندھا ھوا ہے ہزاروں جواب کا.
جب میں کروں سوال تو کہتے ھو چپ رھو ,,,
کیا بات ھے جواب نہیں اس جواب کا.
اے زلفِ یار وجہ بھی کچھ پیچ و تاب کی,,,
اے چشم ِ یار کوئی سبب ھے عتاب کا.
تتلیاں، جگنو، شجر، خوشبو، پرندے چھوڑ کر
ہنس رہی ہوں خواب سارے میں ادھورے چھوڑ کر
جس کی آنکھوں نے لکھا تھا آخری نوحہ مرا
وہ گیا بھی تو گیا ہے سب سے پہلے چھوڑ کر
ڈھونڈتی پھرتی ہوں اپنے آپ کو کچھ اس طرح
آ گئی ہوں جس طرح میں خود کو پیچھے چھوڑ کر
کاٹنے ہیں رتجگے پڑھتے ہوئے دیوان میر
جاگنا ہے عمر بھر نیندیں سرہانے چھوڑ کر
رہ گئیں ویران کچی سی سڑک پر ہچکیاں
چل پڑی گاڑی کسی کے ہاتھ ہلتے چھوڑ کر
دیکھ لے! میں نے مکمل کر لئے ہیں آخرش
تو گیا تھا مجھ میں اپنے نقش آدھے چھوڑ کر
اپنی اوقات یاد رکھنے کو
تیرا لہجہ سنبھال رکھا ہے...
Kal raat ki post thi woh...😮😮😮
برستی بوندیں جو دیکھتا ھوں تو آتی ھے یادِ جاناں
پاگل بنا دے گی یا رب جو برستی رھی یوں بارش
Post daikhi thi...
Accept kia???
بھویں تنتی ہیں خنجر ہاتھ میں ہے تن کے بیٹھے ہیں
کسی سے آج بگڑی ہے کہ وہ یوں بن کے بیٹھے ہیں
دلوں پر سیکڑوں سکے ترے جوبن کے بیٹھے ہیں
کلیجوں پر ہزاروں تیر اس چتون کے بیٹھے ہیں
الٰہی کیوں نہیں اٹھتی قیامت ماجرا کیا ہے
ہمارے سامنے پہلو میں وہ دشمن کے بیٹھے ہیں
یہاں مضبوط سے مضبوط لوہا ٹوٹ جاتا ہے
کئ جھوٹے اکٹھے ہوں تو سچا ٹوٹ جاتا ہے
ممکن نہیں مجھسے یہ طرز منافقت،
دنیا تیرے مزاج کا بندہ نہیں ھوں میں....
عـبثـــــــ! ھـیں وہ ریاضتیـں
جـو یـار کـو نـہ مـنا سـکیں
وہ ڈھــول....
تھـاپــــــــ!.....
بانســری.....
وہ ھــر دھـــمال مستـــرد
عالم آشوب نہیں اب کے وہی حسن و جمال
چاند کا چاند بھی گہنایا ہوا رہنے لگا
خوشبوؤں والے! کوئی خوشبو کا تعویذ تو دے!
میرا اک پھول تھا مرجھایا ہوا رہنے لگا
پھر گلے پڑ ہی گئی زین محبت اُس کے
مطمئن شخص تھا! گھبرایا ہوا رہنے لگا!
Ho kia raha hai??
عجب موجودگی ہے جو کمی پر مشتمل ہے
کسی کا شور میری خامشی پر مشتمل ہے
نہیں مل پاتی کوئی بھی ہنسی میری ہنسی میں
یہ واحد رنج ہے جو رنج ہی پر مشتمل ہے!
بڑا طویل صدمہ ہے !!
تیری مختصر محبت کا !!
ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﻣَﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮐﯽ ﺟَﮭﻠَﮏ
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺭ !
ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﯽ ﻟَﮑﯿﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﺎ
ﻣَﯿﺮﮮﺍُﻟﺠﮭﮯ ﮨُﻮﺋﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺩَﯾﮑﮭﺎ
ﮐُﭽﮫ ﻟَﻤﺤﻮﮞ ﺗَﮏ
ﻭﮦ ﺧﯿﺎﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺑَﮭﻨّﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﮈُﻭﺑﺎ ﺭَﮨﺎ
ﭘﮭﺮ ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻣَﯿﺮﯼ ﺟﺎﻧﺐ ﻭﮦ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﺑَﮭﺮﯼ ﻧِﮕﺎﮨﯿﮟ
ﻟَﻤﺒﯽ ﺍﯾﮏ ﺳَﺮﺩ ﺁﮦ ﺑَﮭﺮﯼ
ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ !!
ﺳَﭻ ﺑﺘﺎﻭٔ " ﻣﺤﺴؔﻦ "
ﻣُﺤَﺒَّﺖ ﮨﺎﺭ ﺑَﯿﭩﮭﮯ ﮨﻮ ﻧﺎ۔ ۔ ؟
Good night and good luck...
Bye bye
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain