تمہارا ظرف ہے تم کو محبت بھول جا تےہو ..
ہمیں تو جس نے ہنس کر بھی پکارا یاد رہتا ہے..
اب کے تُو اس طرح سے یاد آیا
جِس طرح دشت میں گھنے سائے
جیسے دھُندلے سے آئینے کے نقوش
جیسے صدیوں کی بات یاد آئے
ﺟﺐ ﺩﻝ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﻮ ,
ﭘﺮ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﺎﺭﯼ ﺍﺳﮑﯽ ﮨﻮﮞ ,
ﺟﺐ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﻮﮞ ,
ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺁﺗﯽ ﺍﺳﮑﯽ ﮨﻮ ,
ﺟﺐ ﺣﺪ ﺩﺭﺟﮧ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﻮ ﺗﻢ ,
ﻭﮦ ﯾﺎﺩ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ,
ﺟﺐ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻧﯿﻨﺪ ﺳﮯ ﺑﻮﺟﮭﻞ ﮨﻮﮞ ,
ﺗﻢ ﭘﺎﺱ ﺍﺳﮯ ﮨﯽ ﭘﺎﺅ ﺗﻮ ,
ﭘﮭﺮ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺩﮬﻮﮐﮧ ﻣﺖ ﺩﯾﻨﺎ ,
ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺟﺎ ﮐﮯ کہہ ﺩﯾﻨﺎ ,
ﺍﺱ #ﺩﻝ ﮐﻮ #ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ #ﺗﻢ ﺳﮯ_____
جو تری جستجو میں چھوڑ دیا
اُس کا نعم البدل تو توُ بھی نہیں
ضبط سبھی ٹوٹ چکے ہیں صاحب
چرچے ہیں آجکل اپنے،بد اخلاقی کے
مرنے کی اے دل اور ہی تدبیر کر کہ میں
شایانِ دست و خنجرِ قاتل نہیں رہا
لوگ شور سے جاگ جاتے ھیں!
اور ھمیں کسی کی خاموشی سونے نہیں دیتی!!!
درکار ہے کچھ وقت مجھے بخیہ گری کو
تُو سوچ لے تب تک کہ نیا گھاؤ کہاں دوں
عالم آشوب نہیں اب کے وہی حسن و جمال
چاند کا چاند بھی گہنایا ہوا رہنے لگا
خوشبوؤں والے! کوئی خوشبو کا تعویذ تو دے!
میرا اک پھول تھا مرجھایا ہوا رہنے لگا
پھر گلے پڑ ہی گئی زین محبت اُس کے
مطمئن شخص تھا! گھبرایا ہوا رہنے لگا ___!!
میری زندگی کی کتاب میں
میرے روزوشب کے حساب میں
تیرا نام جتنے صفحوں میں ہے
تیری یاد جتنی شبوں میں ہے
وہی چند صفحے ہیں متاعِ جان
انھی رتجگوں کا شمار ہے
بھرم ضروری تھا ، آنسو بھی میرے ہنسنے لگے..
بچھڑنے والا مجھے کہہ رہا تھا ، خوش رہنا
کیا خـوب سجتا ھــے سنگھار تجھ پـر*
*لـبوں پـر لالی جھمکـے اور بالی'*
غریب ہوں تو کیا ہوا
نوکر تو جنت کے سرداروں کا ہوں
کیا ایسے کم سخن سے کوئی گفتگو کرے
جو مستقل سکوت سے دل کو لہو کرے
اب تو ہمیں بھی ترکِ مراسم کا دکھ نہیں
پر دل یہ چاہتا ہے کہ آغاز تو کرے
تیرے بغیر بھی تو غنیمت ہے زندگی
خود کو گنوا کے کون تری جستجو کرے
اب تو یہ آرزو ہے کہ وہ زخم کھائیے
تا زندگی یہ دل نہ کوئی آرزو کرے
تجھ کو بھلا کے دل ہے وہ شرمندۂ نظر
اب کوئی حادثہ ہی ترے روبرو کرے
ہم پہ بھی ڈال اک نظر ایسی
جس کو، کشفَ القلُوب کہتے ہیں
جن پہ دنیا تمام هو جائے
ان سے آگے جہاں نہیں هوتے .......!!!
چهوڑو مرشد سنگتوں کے روگ
مطلبی دنیا----منافق لوگ
مجھے رنگ دے نہ سرور دے مرے دل میں خود کو اتار دے
مرے لفظ سارے مہک اٹھیں مجھے ایسی کوئی بہار دے
مجھے دھوپ میں تو قریب کر مجھے سایہ اپنا نصیب کر
مری نکہتوں کو عروج دے مجھے پھول جیسا وقار دے
مری بکھری حالتِ زار ہے نہ تو چین ہے نہ قرار ہے
مجھے لمس اپنا نواز کے مرے جسم و جاں کو نکھار دے
وہ آنکھ جس کے لیے میں اداس رہتا ہوں
بھری ہوئی ہے کسی اور ہی نظارے سے
میرے ہر اُداس پل میں میرا ساتھ چھوڑ جانا
یہ کہاں کی اُلفتیں ہیں یہ کہاں کا عِشق جاناں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain