کیا ایسے کم سخن سے کوئی گفتگو کرے
جو مستقل سکوت سے دل کو لہو کرے
اب تو ہمیں بھی ترکِ مراسم کا دکھ نہیں
پر دل یہ چاہتا ہے کہ آغاز تو کرے
تیرے بغیر بھی تو غنیمت ہے زندگی
خود کو گنوا کے کون تری جستجو کرے
اب تو یہ آرزو ہے کہ وہ زخم کھائیے
تا زندگی یہ دل نہ کوئی آرزو کرے
تجھ کو بھلا کے دل ہے وہ شرمندۂ نظر
اب کوئی حادثہ ہی ترے روبرو کرے
ہم پہ بھی ڈال اک نظر ایسی
جس کو، کشفَ القلُوب کہتے ہیں
جن پہ دنیا تمام هو جائے
ان سے آگے جہاں نہیں هوتے .......!!!
چهوڑو مرشد سنگتوں کے روگ
مطلبی دنیا----منافق لوگ
مجھے رنگ دے نہ سرور دے مرے دل میں خود کو اتار دے
مرے لفظ سارے مہک اٹھیں مجھے ایسی کوئی بہار دے
مجھے دھوپ میں تو قریب کر مجھے سایہ اپنا نصیب کر
مری نکہتوں کو عروج دے مجھے پھول جیسا وقار دے
مری بکھری حالتِ زار ہے نہ تو چین ہے نہ قرار ہے
مجھے لمس اپنا نواز کے مرے جسم و جاں کو نکھار دے
وہ آنکھ جس کے لیے میں اداس رہتا ہوں
بھری ہوئی ہے کسی اور ہی نظارے سے
میرے ہر اُداس پل میں میرا ساتھ چھوڑ جانا
یہ کہاں کی اُلفتیں ہیں یہ کہاں کا عِشق جاناں
حساب ترک تعلق تمام میں نے کیا
شروع اس نے کیا اختتام میں نے کیا
مجھے بھی ترک محبت پہ حیرتیں ہیں رہیں
جو کام میرا نہیں تھا وہ کام میں نے کیا
وہ چاہتا تھا کہ دیکھے مجھے بکھرتے ہوئے
سو اس کا جشن بصد اہتمام میں نے کیا
بہت دنوں مرے چہرے پہ کرچیاں سی رہیں
شکست ذات کو آئینہ فام میں نے کیا
عورت کا دل توڑ دو وہ تمہیں معاف کر دے گی.
مگر کبھی..
اس کے جہیز کے ڈنر سیٹ کی پلیٹ نہ توڑنا
حساب ترک تعلق تمام میں نے کیا
شروع اس نے کیا اختتام میں نے کیا
مجھے بھی ترک محبت پہ حیرتیں ہیں رہیں
جو کام میرا نہیں تھا وہ کام میں نے کیا
وہ چاہتا تھا کہ دیکھے مجھے بکھرتے ہوئے
سو اس کا جشن بصد اہتمام میں نے کیا
بہت دنوں مرے چہرے پہ کرچیاں سی رہیں
شکست ذات کو آئینہ فام میں نے کیا
ہوائیں سرد ہو جائیں
یا لہجےبرف ہو جائیں
ہم اُس کی یاد کی چادر کو
خود پہ تان لیتے ہیں
سنو!........
درویش لوگوں کی
کوئی دنیا نہیں ہوتی
ملے جو خاک رستے کی
اُسی کو چھان لیتے ہیں
اگر وہ روٹھ جاتا ھے
ہماری جان نکلتی ہے
یہ سانسیں جاری رکھنے کو
ہم اُس کی مان لیتے ہیں...
رگ رگ میں میرا لمس اترتا محسوس کروگی
جو کیفیت بھی تمکو دونگا انتہائی دونگا۔۔۔۔!
کاش انہیں خواب ہی آ جائے کہ ہم
ان کے بغیر__ رہ نہیں سکتے,
سڑک کنارے بیٹھا تھا
کوئی جوگی تھا یا روگی تھا
کیا جوگ سجائے بیٹھا تھا ؟
کیا روگ لگائے بیٹھا تھا ؟
تھی چہرے پر زردی چھائی
اور نیناں اشک بہاتے تھے
تھے گیسو بکھرے بکھرے سے
جو دوشِ ھوا لہراتے تھے
میں نے کچھ لفظ لکھے ہیں پانی پر --------دریا تیرے شہر سے گزرے تو پڑھ لینا
ھم نے ہر شے میں اُترتے ھوئے دیکھا خود کو
یاد آئی جب تِرے قرب پہ واری ھوئی شام
کون جانے میری تنہاٸی کا عالم کیا ھے
مجھ کو محبوب کبھی تنہا نہی ھونے دیتا
لڑکیوں مجھ پے زیادہ لائن نا مارا کرو
اس گروپ میں میری جانو بھی ہے آپ کی حرکتیں دیکھ کے وہ الٹا مجھ سے ناراض ہو جاتی ہے
تُجھ کو ہو میرے ساتھ کی خواہش شدید تر
اور پھر تُجھ سے تمام عمر میرا سامنا نہ ہو
کوئی ان سے جا کہ کہــہ دے سـرِبام پھر تـجلی
جنہیں کر چکے ھو بےخود انھیں ہوش آ گئے ہیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain