عشق ❤️وہ نہیں سرکار جو تجھے میرا کر دے 💕
عشق وہ ہے جو تجھے کسی اور کا ہونے نہ دے💕
اگر بے عیب چاھو تو فرشتوں سے نبھا کر لو
میں آدم کی نشانی ہوں خطا میری وراثت ھے
کسی کو پڑھ لیا ایک ہی نشست میں ہم نے
کوئی ضخیم تھا، اور باب باب ختم ہوا
مَیں چاہتا ہوں ' دل بھی حقیقت پسند ہو
سو کچھ دنوں سے مَیں اُسے بہلا نہیں رہا
ہمیں معلوم ہے ہم سے سنو محشر میں کیا ہوگا
سب اس کو دیکھتے ہوں گے وہ ہم کو دیکھتا ہوگا
سوچتا ہوں کہ ڈھلیں گے یہ اندھیرے کیسے
لوگ رخصت ہوئے اور لوگ بھی کیسے کیسے
کاش کچھ اور مِری عُمْر وفا کرجاتی
اُن کو حسرت رہی کہ جی بھر کے ستایا نہ گیا
اُس اِک پل سے زیادہ تو زندگی بھی نہیں
وہ اِک پل ہی سہی جس میں تو میسر ہو
کوئی پتھر کوئی گہر کیوں ہے
فرق لوگوں میں اس قدر کیوں ہے
تو ملا ہے تو یہ خیال آیا
زندگی اتنی مختصر کیوں ہے
جب تجھے لوٹ کر نہیں آنا
منتظر میری چشم تر کیوں ہے
اس کی آنکھیں کہیں صدف تو نہیں
اس کا ہر اشک ہی گہر کیوں ہے
میں نے روکا بھی نہیں، اور وہ ٹھہرا بھی نہیں
حادثہ کیا تھا جسے دل نے بھلایا بھی نہیں
جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی
تم چلے ہو تو، کوئی روکنے والا بھی نہیں
وہ تو صدیوں کا سفر کر کے یہاں پہنچا تھا
تو نے منہ پھیر کے جس شخص کو دیکھا بھی نہیں
کون سا موڑ ہے کیوں پاؤں پکڑتی ہے زمیں
اس کی بستی بھی نہیں، کوئی پکارا بھی نہیں
اک مسافر کہ جسے تیری طلب ہے کب سے
احتراما" تیرے کوچے سے گذرتا بھی نہیں !!
ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ !
ﺟﺒﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮ
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺳﺮﺩ ﻣﮩﺮﯼ ﮐﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ
ﭘﮍﮮ ﭼﭗ ﭼﺎﭖ ﺳﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ !
ﺟﺒﮭﯽ ﺗﻮ ﮨﻢ ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﻟﻮﭦ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺫﺍﺕ ﮐﮯ ﮔﻨﺠﺎﻥ ﺑﺮﮔﺪ ﻣﯿﮟ
ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﭨﮩﻨﯽ ﺑﮭﯽ
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺧﻮﺍﮨﺸﻮﮞ ﮐﻮ ﮔﮭﻮﻧﺴﻼ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﯽ
ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ !
ﺟﺒﮭﯽ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺩﯾﮱ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ
وہ اِک کتاب جو منسوب تيرے نام سے ہے..
اِسی کتاب کے اندر کہيں کہيں ميں ہوں!!
🍁
تجھ سے تعبیر نہیں مانگی مگر یاد تو کر۔۔۔۔!
تو نے ان آنکھوں کو اک خواب دکھایا تھا کبھی
مجھ کو جب بھی ملا، کچھ ادھورا ملا
مجھ پہ عاشق ہوا مات کھایا ہوا شخص
کوئی پرفیکٹ نہیں ہوتا بلکہ درحقیقت معاملہ یہ ہے کہ اگر لگاؤ ہو تو ہم خوبیاں تلاش کر لیتے ہیں اور بیزاری ہو تو خامیاں....!!!!
داد پاتا ہوا اُس شوخ کا چہرہ چوموں
لوحِ امکان سے اترا ہوا مصرعہ چوموں
مسندِ قیس ملی ہے تو خوشی کے مارے
چومنے ہاتھ کوئی آئے تو ماتھا چوموں
یک بہ یک تازہ ہوا آئی ہے زندانوں میں
شاہ زادی تری باتیں ترا لہجہ چوموں
سنو جاناں
تم شفا کا پانی ہو
جس کا گھونٹ بھرنے سے
فصلِ جان کے دامن میں
پھول کھلنے لگتے ہیں
اور دکھوں کے جنگل میں
سکھ اترنے لگتے ہیں❤
اگر تم دیکھ لو خود کو مجسم میری آنکھوں میں
تمہیں میری محبت سے بلا کا عشق ہو جائے
یارم ! تمہارا شہر، جدھر ہے. اُسی طرف !
اک ریل جا رہی تھی کہ، تُم یاد آ گئے۔۔
یہ دل دھڑک رہا ہے، تری یاد کے بغیر
اس کا جو اصل کام ہے کر ہی نہیں رہا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain