Damadam.pk
DarK_PrincE's posts | Damadam

DarK_PrincE's posts:

DarK_PrincE
 

جہاد کرنا ہے ہر گھڑی سے، حساب لینا ہے زندگی سے
منائیں گے جشن خیر اس دن ، بدی کا جب انتقال ہو گا

DarK_PrincE
 

شمع تیری آمد کو جلائی تھی سرِ شام
ھوتے رہے پروانے فدا رات گئے تک

DarK_PrincE
 

خود کو مومن میں شمار کرتے ہیں لوگ
منافقوں میں اعلی مقام ہے جن کا

DarK_PrincE
 

دید ہے نا سخن حرف ہے نا پیام
کوئی بھی حیلہِ تسکین نہیں، اور آس بہت ہے
امیدِ یار ، نظر کا مزاج، درد کا رنگ
تم آج کچھ بھی نہ پوچھو کہ دل اداس بہت ہے

DarK_PrincE
 

وہ مجھ کو چھوڑ کے جس آدمی کے پاس گیا
برابری کا بھی ہوتا تو______ صبر آ جاتا

DarK_PrincE
 

حسرتیں روگ بن گئیں یار---
لوگ زہنی مریض کہتے ھیں---

DarK_PrincE
 

میں نے اعتراف محبت کے بعد
محبتوں کو پھیکا پڑتے بھی دیکھا ہے

DarK_PrincE
 

ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے
عشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے

DarK_PrincE
 

ارے قربان جاؤں میں ان کی اس سادگی پہ
جو کہہ گئے دل ہی توڑا کونسی جان لے لی!!

DarK_PrincE
 

ﻏﻠﻂ تهے ﻭﻋﺪﮮ مگر میں یقیں رکهتا تها
ﻭﮦ ﺷﺨﺺ لہجہ ﮨﯽ بڑا دلنشیں رکهتا تها.

DarK_PrincE
 

ﻏﻠﻂ تهے ﻭﻋﺪﮮ مگر میں یقیں رکهتا تها
ﻭﮦ ﺷﺨﺺ لہجہ ﮨﯽ بڑا دلنشیں رکهتا تها.

DarK_PrincE
 

عرصے بعد ایسی فرصت میسر آئی ہے
آپ کی یادوں کی آنچ پر چائے بنائی ھے

DarK_PrincE
 

تم نے کوٸ ایک شخص نہ ہم سا پایا ہوگا
ہم نے دیکھے ہیں کٸ لوگ تمھارے جیسے

DarK_PrincE
 

پھر ہوئی شین الف میم، خدا خیر کرے
ہاتھ میں آ گیا پھر جیم الف میم، خدا خیر کرے
۔
عشق پہلا ہے ،مجھے ڈر ہے ، ہو نا جائوں کہیں
نون الف کاف الف میم، خدا خیر کرے
۔
عشق کی راہ گزر میں نظر آتے ہیں مجھے
ہر طرف دال الف میم ، خدا خیر کرے
۔
ایک اپنا تھا، خدا جانے ہوا کیا ہے اس کا !
الف نون جیم الف میم، خدا خیر کرے

DarK_PrincE
 

میں تلخ لہجوں سے دور بھاگنے والا لڑکا
وہ لڑکی کچھ کڑوا بھی بولے تو سنتا تھا

DarK_PrincE
 

لوٹ_آؤ_اور_کہہ_دو_کہ
مجھے لِتر مارو 😁
میں کِسی کی باتوں میں آ گئی تھی

DarK_PrincE
 

نہیں تھا اعتبار اس کو میری مخلصی پر
کھو دیا اس نے مجھے آزماتے آزماتے...

DarK_PrincE
 

صاحب! مدد کریں، کہ مصیبت کا ہوں شکار
سینے میں ایک دل تھا، مجھے مل نہیں رہا

DarK_PrincE
 

موبائلوں کے دور کے عاشق کو کیا پتا
رکھتے تھے کیسے خط میں کلیجہ نکال کر

DarK_PrincE
 

مِلنا تھا ایک بار اُسے ـ ـ ـ پھر کہیں مُنیرؔ
اَیسا مَیں چاہتا تھا ـــ پر اَیسا نہیں ہُوا