یہ ٹھیک ہے کہ گردش حالات کے سبب
دل بھی میرا تباہ ہے ہمت بھی پست ہے
تم سوچتی بہت ہو پھر یہ بھی سوچنا
میری شکست اصل میں کس کی شکست ہے
تُجھ سے ہاریں کہ تُجھے مات کریں ؟؟؟
تُجھ سے خوشبو کے مراسم ہیں، تُجھے کیسے کہیں
ﻋﺸﻖ ﻭﺍﺟﺐ ، ﻭﻓﺎ ﻻﺯﻡ ، ﺩﺭﺩ ﻭﺍﺟﺐ ، ﺩﻭﺍ ﻻﺯﻡ
ﮨﺠﺮ ﻭﺍﺟﺐ ، ﺳﺰﺍ ﻻﺯﻡ ، ﺭﻭﮒ ﻭﺍﺟﺐ ، ﺩﻋﺎ ﻻﺯﻡ
بدذائقہ کھانا پکانے اور سَجنے سَنورنے کا ہُنر صرف تعلیم یافتہ اور حسِین عورتوں کے پاس ہوتا ہے
ﺩﻭ ﺑﮭﯿﺪ ﺑﮭﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
ﺍﮎ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﭼﻠﻤﻦ ﺳﮯ
ﮨﺮ ﺭﺍﺕ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ
ﺩﻭ ﺑﮭﯿﺪ ﺑﮭﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
ﮨﺮ ﺻﺒﺢ ﮐﻮ ﭼﮍﯾﻮﮞ ﮐﯽ
ﭼﮩﮑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﮈﮬﻞ ﺟﺎﺋﯿﮟ
ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﻗﺒﺎ ﭘﮩﻨﯿﮟ
ﺷﺒﻨﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﺟﺎﺋﯿﮟ
ﮨﺮ ﺷﺎﻡ ﮨﻮﺍﺅﮞ ﺳﮯ
ﺍﺣﻮﺍﻝ ﻣﯿﺮﺍ ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ...
ہم نے تو عشق کا "ع" جانا تو،
" عیب دار" کہلاۓ۔۔
سوچتے ہیں جس نے " ق " کو جانا ہوگا
اس پر تو قیامت آئی ہوگی..
یاد ہیں ہمیں اپنے__________سب کے سب گناہ
اک محبت کر لی٫ دوسرا تم سے کر لی٫ تیسرا بے پناہ کر لی
"راہِ فَنا "سے مِلے" سَدرةّ البَقّا "سے مِلے
تیری طَلب میں کئی بار ہَم خُدا سے مِلے
ہماری موت جوانی میں لکھ دی جاتی ہے
ہم ایسے لوگ فقط منہ دکھانے آتے ہیں
یوں تو معترف ھوں ازل سے میں،تیرے فن کی ذوق جمال کی
جو لگی پہ تو نے لگائی ہے وہ ھے چوٹ جاناں کمال کی!
مجھے زخم سے ملی روشنی،کئی بھید ایسے ہوئے عیاں
نہ تو خواہشیں ہیں عروج کی،نہ کوئی فکر ھے،زوال کی!
دل پاگل ہےمانتا نہیں ہے
ورنا جسم تو ابھی بھی ڈرتاہے
کہیں سگریٹ نا لگا دے
جس کا نہ قاعدہ نہ کوئی بھی اصول ہے
وہ کہہ رہا تھا مجھ سے محبت فضول ہے
آنکھوں کے سرخ ڈورے ہیں اس کے گواہ ، پر
وہ مسکرا کے کہتا ہے یوں ہی ملول ہے
سوکھے ہیں ہونٹ اور ندامت بھی ہے عیاں
چہرے پہ لگ رہا ہے مسافت کی دھول ہے
*یہ عشق کا روگ جاتا نہیں خدا کی قسم...*
*گلے میں ڈال کے سارے تعویز دیکھے ہیں...*
باتیں اگر بول دی جائیں تو رشتے مر جاتے ہیں
اور اگر دل میں رکھ لی جائیں تو انسان مر جاتا ہے
انتہائی حسین لگتی ہے
جب وہ کرتی ہے روٹھ کر باتیں
میں بتاو میرے دل کى خوشى کیا ہے
ایک ہى تصویر میں ہنستے ہوے ہم دونوں
ہاتھ خالی ہیں تِرے شہر سے جاتے جاتے
جان ہوتی، تو مِری جان! لُٹاتے جاتے
اب تو ہر ہاتھ کا پتّھر ہَمَیں پہچانتا ہے
عُمر گذری ہے تِرے شہر میں آتے جاتے
مجھ میں رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید
لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے
وحشت جاں!میری حسرت کے یوں ریشے نہ اڈھیڑ
یوں میرے خوابوں کی لاشوں میں سے رستہ نہ بنا
زندگی دیکھ تیرے دیدہ تمسخر کی قسم
ہم تجھے چھوڑنے والے ہیں تماشا نہ بنا
زونگ والے دس MB فری دے کہ ایسے مبارکباد دیتے ہیں
جیسے بحریہ ٹاؤن میں پلاٹ ہمارے نام کردیا ہو
باتوں میں بیت جاتی تھیں اکثر
کبھی یہ راتیں مختصر ہوتی تھیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain