تم کیا جانو______ اس دریا پر کیا گزری
تم نے تو بس_____پانی بھرنا چھوڑ دیا
اُس کی کتھئی آنکھوں میں ہیں جنتر منتر سب
چاقو واقو، چھریاں وریاں، خنجر ونجر سب
جس دن سے تُم روٹھی،مُجھ سے روٹھے روٹھے ہیں
چادر وادر، تکیہ وکیہ، بستر وستر سب
مُجھ سے بچھڑ کے وہ بھی کہاں اب پہلے جیسی ہے
پھیکے پڑ گئے کپڑے وپڑے، زیور شیور سب
ﮐﺒﮭﯽ ﭘَﻠﮑﻮﮞ ﭘﮧ ﺁﻧﺴﻮ ﮬﯿﮟ
ﮐﺒﮭﯽ ﻟَﺐ ﭘﮧ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮬﮯ
ﻣﮕﺮ ﺍﮮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ
ﻣُﺠﮭﮯ ﺗُﺠﮫ ﺳﮯ ﻣُﺤﺒﺖ ﮬﮯ
ﺟﻮ ﺁﺗﺎ ﮬﮯ ﻭﮦ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ
ﯾﮧ ﺩُﻧﯿﺎ ﺁﻧﯽ ﺟﺎﻧﯽ ﮬﮯ
ﯾﮩﺎﮞ ﮨﺮ ﺷﮱ ﻣُﺴﺎﻓﺮ ﮬﮯ
ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮔﺎﻧﯽ ﮬﮯ
ﺍُﺟﺎﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮬﮯ
ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﻣﯿﺮﯼ ﻗﺴﻤﺖ ﮬﮯ...
میں چاہتا تو کب کا , اُسے منا لیتا۔۔
مگر وہ روٹھا نہیں تھا بدل گیا تھا
Umar to mera name hai noor fm
, ذرا دیکھو دروازہ دل پہ____دستک کون دے رہا ہے...
محبت ہوتو کہہ دینا،____صاحب انتقال کر گئے.... ...!
Dil dooba dil dooba green ankhon main yeah dil doooba.....
ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں
فرازؔ اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں
جدائیاں تو مقدر ہیں پھر بھی جان سفر
کچھ اور دور ذرا ساتھ چل کے دیکھتے ہیں
رہ وفا میں حریف خرام کوئی تو ہو
سو اپنے آپ سے آگے نکل کے دیکھتے ہیں
تو سامنے ہے تو پھر کیوں یقیں نہیں آتا
یہ بار بار جو آنکھوں کو مل کے دیکھتے ہیں
ﺧِﺮﺩ، ﺟُﻨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺍﺏ، ﺣﻘﯿﻘﺖ، ﻋِﻠﻢ، ﻋَﻤﻞ، ﺍِﻟﮩﺎﻡ...
ﻣﺤﻨﺖ، ﺭﻏﺒﺖ، ﭼﺎﮨﺖ، ﻓُﺮﺻﺖ، ﭘِﯿﺎ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻧﺎﻡ
ﭘِﯿﺎ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻧﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﻋِﺸﻖ، ﺳﻔﺮ، ﺍﻧﺠﺎﻡ
ﻋِﺸﻖ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺫﺍﺕ ﻣُﻨﺎﺳﺐ، ﭘِﯿﺎ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻧﺎﻡ
ﭘُﻮﺭﺏ، ﭘﭽﮭّﻢ، ﺻُﺒﺢ، ﺩُﭘﮩﺮﯼ، ﻓﺮﺩﺍ، ﺩﻭﺵ، ﻣُﻘﺎﻡ
ﮔﮭﻨﮕﮭﺮﻭ، ﭘﺎﯾَﻞ، ﭨِﯿﮑﮧ، ﮔﮭﻮﻧﮕﭧ، ﭘِﯿﺎ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻧﺎﻡ
بَدن میں اُتریں تھکن کے سائے تو نیند آئے
یہ دِل، کہانی کوئی سُنائے تو نیند آئے
بُجھی بُجھی رات کی ہتھیلی پہ مُسکرا کر!
چراغِ وعدہ، کوئی جلائے تو نیند آئے
ہَوا کی خواہش پہ کون آنکھیں اُجاڑتا ہے
دِیے کی لَو خود سے تھر تھرائے تو نیند آئے
اتنی دلکش کہاں تھی یہ زندگی
ہم نے جب آپ کو چاہا نہیں تھا
اگر بے عیب چاھو تو فرشتوں سے نبھا کر لو
میں آدم کی نشانی ہوں خطا میری وراثت ھے
کسی کو پڑھ لیا ایک ہی نشست میں ہم نے
کوئی ضخیم تھا، اور باب باب ختم ہوا
یہ سانحہ تو کسی دن گزرنے والا تھا
میں بچ بھی جاتا تو اک روز مرنے والا تھا
مَیں چاہتا ہوں ' دل بھی حقیقت پسند ہو
سو کچھ دنوں سے مَیں اُسے بہلا نہیں رہا
ہمیں معلوم ہے ہم سے سنو محشر میں کیا ہوگا
سب اس کو دیکھتے ہوں گے وہ ہم کو دیکھتا ہوگا
یہ کسک دِل کی دِل میں ، چبھی رہ گئی
زندگی میں ، تمہاری کمی رہ گئی
ایک میں ، ایک تم ، ایک دیوار تھی
زندگی آدھی آدھی ، بٹی رہ گئی
رات کی بھیگی بھیگی ، چَھتوں کی طرح
میری پلکوں پہ ، تھوڑی نمی رہ گئی
ہماری موت جوانی میں لکھ دی جاتی ہے
ہم ایسے لوگ فقط منہ دکھانے آتے ہیں
کاش کچھ اور مِری عُمْر وفا کرجاتی
اُن کو حسرت رہی کہ جی بھر کے ستایا نہ گیا
اُس اِک پل سے زیادہ تو زندگی بھی نہیں
وہ اِک پل ہی سہی جس میں تو میسر ہو
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain