کوئی پتھر کوئی گہر کیوں ہے
فرق لوگوں میں اس قدر کیوں ہے
تو ملا ہے تو یہ خیال آیا
زندگی اتنی مختصر کیوں ہے
جب تجھے لوٹ کر نہیں آنا
منتظر میری چشم تر کیوں ہے
اس کی آنکھیں کہیں صدف تو نہیں
جہاد کرنا ہے ہر گھڑی سے، حساب لینا ہے زندگی سے
منائیں گے جشن خیر اس دن ، بدی کا جب انتقال ہو گا
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
میں نے روکا بھی نہیں، اور وہ ٹھہرا بھی نہیں
حادثہ کیا تھا جسے دل نے بھلایا بھی نہیں
جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی
تم چلے ہو تو، کوئی روکنے والا بھی نہیں
وہ تو صدیوں کا سفر کر کے یہاں پہنچا تھا
تو نے منہ پھیر کے جس شخص کو دیکھا بھی نہیں
کون سا موڑ ہے کیوں پاؤں پکڑتی ہے زمیں
اس کی بستی بھی نہیں، کوئی پکارا بھی نہیں
اک مسافر کہ جسے تیری طلب ہے کب سے
احتراما" تیرے کوچے سے گذرتا بھی نہیں !!
یاد آؤں گا تجھے ذہن کی ہر منزل پر
حرفِ سادہ تو نہیں ہُوں کہ بھلایا جاؤں
گرفتہ دل عندلیب، گھائل گلاب..... دیکھے
محبتوں نے سبھی رُتوں میں عذاب دیکھے
یہ صبحِ کاذب تو رات سے بھی طویل تر ہے
کہ جیسے صدیاں گزر گئیں.....آفتاب دیکھے
وہ چشمِِ محروم کتنی محروم ہے کہ جس نے
نہ خواب دیکھے نہ رتجگوں کے عذاب دیکھے
تجھ سے تعبیر نہیں مانگی مگر یاد تو کر۔۔۔۔!
تو نے ان آنکھوں کو اک خواب دکھایا تھا کبھی
مجھ کو جب بھی ملا، کچھ ادھورا ملا
مجھ پہ عاشق ہوا مات کھایا ہوا شخص
یہ ھجر ،کہ ھاتھوں میں لکیروں کی طرح ھے،
اچھا ھے میرا دل بھی اسیروں کی طرح ھے
اک میں ھوں ھواؤں کی صداؤں کا مسافر،
اک تو ھے جو سوچوں پہ سفیروں کی طرح ھے
ھر شخص ھے نفرت کے تقاضوں کا پجاری
مدت سے محبت بھی فقیروں کی طرح ھے
تو دل میں بسا ھے ! یہ عجب ھے کہ میرا گھر
اجڑے ھوئے بےربط جزیروں کی طرح ھے
خواتین جتنا واٹس ایپ اور فیسبک چلاتی ھیں ۔۔
آگر اتنا سلائی مشین چلائے تو روز کے تین سوٹ سی لیں
کوئی پرفیکٹ نہیں ہوتا بلکہ درحقیقت معاملہ یہ ہے کہ اگر لگاؤ ہو تو ہم خوبیاں تلاش کر لیتے ہیں اور بیزاری ہو تو خامیاں....!!!!
نہ جانے کونسی شہرت پر انسان کو ناز ہے؟
جو آخری غسل کے لیئے بھی محتاج ہے۔
وہ مجھ کو چھوڑ کے جس آدمی کے پاس گیا
برابری کا بھی ہوتا تو______ صبر آ جاتا
ناکامی کبھی اُس بندے کا راستہ نہیں روک سکتی
جو سائیکل کی چَین اُترنے پر اُلٹا پیڈل مار کر چَین دوبارہ چڑھاناجانتا ہو
مجھے واٹس ایپ پے لے چلو
میرا یہاں دم گھٹ رہا ہے
اک روز کوئی آئے گا لے کر کے فرصتیں..
اک روز ہم کہیں گے ضرورت نہیں رہی..
کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہاکیوں ہے؟
وہ جواپناتھاوہی اورکسی کاکیوں ہے؟
یہی ہوتاہے توآخریہی ہوتاکیوں ہے؟
یہی دنیاں ہے توپھرایسی یہ دنیاکیوں ہے؟
دلِ بربادسے نکلانہیں اب تک کوئی
ایک لٹے گھرپہ بھی آدیتا ہے دستک کوئی
آس جوٹوٹ گئی پھرسے بندھاتا کیوں ہے؟...
You know its true every thing i do i do it for you...
ہم نے روتی ہوئی آنکھوں کو ہنسایا ناصر
اس سے بہتر تو عبادت نہیں ہوتی ہم سے
رو کر مانگ لیا کرو اسی رب سے
اسے کسی کے رونے پہ ہنسی نہیں آتی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain