نہ جانے کہا سے آتا ہے #لوگوں میں #غرور
آخر ہم بھی تو اسی #خدا کہ بنائے ہووے ہیں
میرا دل کرتا ہے اُس کو چُھپ چُھپ کے دیکھوں
خود سے جدا کرکے ہی سہی لیکن اس کو خوش دیکھوں
میں اپنے حصے کا ضبط پورا تو آزماؤں
کوئی سلیقے کا غم تُو اب کے اتار مجھ میں!
حسرتیں روگ بن گئیں یار---
لوگ زہنی مریض کہتے ھیں---
شمع تیری آمد کو جلائی تھی سرِ شام
ھوتے رہے پروانے فدا رات گئے تک
اگر تم دیکھ لو خود کو مجسم میری آنکھوں میں
تمہیں میری محبت سے بلا کا عشق ہو جائے
دید ہے نا سخن حرف ہے نا پیام
کوئی بھی حیلہِ تسکین نہیں، اور آس بہت ہے
امیدِ یار ، نظر کا مزاج، درد کا رنگ
تم آج کچھ بھی نہ پوچھو کہ دل اداس بہت ہے
تم بات کرو وہ دھیان نہ دے
جو سچے پیار کو مان نہ دے
تم سب سے خاص کہو اُس کو
وہ تم کو سب سے عام لکھے
وہ دن کو رات کہے تو تم
سورج کو چاند بنا ڈالو
تم سانس بھی اُس کی یاد میں لو
اور اس کو کوئی احساس نہ ہو
تم جیون دھارا بن جاؤ
پر اُس کو تمھاری پیاس نہ ہو...
پنجابیوں کا پرپوز کرنے کا طریقہ...
ویلی پھردی رہنی اے کسی غریب دے کم آجا
بس وہ چار لوگ مل جائیں
قسمیں گولی مار دینی ہے جنکے بارے میں امی کہتی ہے
چار لوگ دیکھیں گے تو کیا کہیں گے
ﺍﺑﮭﯽ ﻓﺮﺻﺖ ﮐﮩﺎﮞ ﺍﺳﮑﻮ ؟
ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺩﯾﮑﮭﮯ ..
ﺍﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺑﮯ ﭘﻨﺎہ ﭼﮩﺮﮮ ..
ﮬﺰﺍﺭﻭﮞ ﺧﻮﺵ ﮔﻤﺎﮞ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ..
ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﻨﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ
ﺍﺳﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺳﺠﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ..
ﺍﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮐﯿﻮﮞ ﺁﺅﮞ؟
ﺍﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ _____
ﺳﻔﺮ ﮐﯽ ﮔﺮﺩ ﻣﯿﮟ ﮔﻢ ﮬﻮﮞ ..
مل تو جاتے ہیں کئی لوگ مگر میری جان__
ہر نیا شخص پرانے سا کہاں ہوتا ہے___
اے گردش ایام ہمیں رنج بہت ہے..
کچھ خواب تھے ایسے کہ بکھرنے کے نہی تھے...
کبھی تو تم بھی کوئی دلنشیں سی گفتگو کرتے
ہمارے ساتھ جینے کی ذرا سی آرزو کرتے
بھلے تشبیہ نہ دیتے کوئی گلزار سی ہم کو
مگر دل سے ذرا پل بھر ہماری جستجو کرتے!
تعلق برقرار رکھنا ہو
تو اچھائی بیان کرتے رہو
ختم کرنا ہو تو سچائی بیان کردو
فتویٰ نہ لگاؤ تو ایک بات پوچھوں؟؟
دل سے کسی اور کو، زبان سے کسی اور کو، قبول کر لیا جائے.
تو نکاح کونسا جائز ہوگا؟
سمجھے نہ کوئی سرسری سا تذکرہ مجھے
بھر پور ماجرا ہوں ، حوالہ نہیں ہوں میں
ھو بھی سکتا ھے اُس کو یاد آ جاتی ھو میری______
جب بھی وہ تک لیتا ھو ! چہرہ بے جان کسی کا
تم بات کرو وہ دھیان نہ دے
جو سچے پیار کو مان نہ دے
تم سب سے خاص کہو اُس کو
وہ تم کو سب سے عام لکھے
وہ دن کو رات کہے تو تم
سورج کو چاند بنا ڈالو
تم سانس بھی اُس کی یاد میں لو
اور اس کو کوئی احساس نہ ہو
تم جیون دھارا بن جاؤ
پر اُس کو تمھاری پیاس نہ ہو...
اس قدر پیار بھری نظروں سے دیکھا اس ظالم نے
دل تو گیاہی
15 روپیہ کا سموسہ بھی گر گیا۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain