ﺗﯿﺮﯼ ﺗﻠﺨﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﮮ ﺯﻧﺪﮔﯽ،
ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺗﻠﺦ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ﮨﻢ ۔۔۔۔
ﺍﺗﻨﮯ ﺩﮐﮫ ﻧﺎ ﺩﮮ ﺍﮮ ﺯﻧﺪﮔﯽ،
ﮐﮧ ﺗﺠﮭﮯ ﺟﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﺎ ﭘﺎﮰ ﮨﻢ۔۔۔
ﺗﯿﺮﯼ ﺭﻧﺠﺸﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﮮ ﺯﻧﺪﮔﯽ،
ﮐﮩﯿﮟ ﮨﻨﺴﻨﺎ ﻧﮧ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮨﻢ۔۔۔۔
ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﯿﺰﺍﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﮮ ﺯﻧﺪﮔﯽ،
ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﺭﻭﭨﮫ ﻧﮧ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮨﻢ۔۔۔۔۔۔۔
ﺗﺠﮭﮯ ﮔﺰﺍﺭﺗﮯ ﮔﺰﺍﺭﺗﮯ ﺍﮮ ﺯﻧﺪﮔﯽ،
ﮐﮩﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﻧﮧ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮨﻢ ۔۔۔۔
لے دے کے اب تو ایک تمنا بچی ہے بس
مرنے کے بعد چہرے پہ افسردگی نہ ہو
بیعت کر ہمارے ہاتھوں پہ اے عشق
تڑپنا کسے کہتے ہیں یہ اب ہم بتائیں گے
کوہ انا کی برف تھی دونوں جمے رہے
جذبوں کی تیز دھوپ سے پگھلا نہ تو نہ میں.
اُنگلیاں میری وفا پہ نہ اُٹھاو لوگو
جِس کو شک ھے وہ مجھ سے نباھ کر دیکھے ۔۔۔
-سہی وقت پہ کروا دینگے حدوں کا احساس
-کُچھ تالاب خود کو سمندر سمجھ بیٹھے ہیں۔۔
یہ الگ بات کہ_چیخیں نہیں آتی باہر..
آدمی اب بھی_چُنے جاتے ہیں دیواروں میں..
دل سے خوبصورت بنو۔۔
شکل سے تو ویسے بھی نہیں ہو
تیری بدعا میں اثر نہیں ہے
میں بیمار تو هوتا هوں پر مرتا نہیں..
ایک تو حسن بلا اس پہ بناوٹ آفت
گھر بگاڑیں گے ہزاروں کے سنورنے والے
حشر میں لطف ہو جب ان سے ہوں دو دو باتیں
وہ کہیں کون ہو تم ہم کہیں مرنے والے
ایک چہرہ ھے ، جو آنکھوں میں بسا رھتا ھے
ایک تصّور ھے ، جو تنہا نہیں ھُونے دیتا
تیرا مہمان ٹھٹھرتا ہوا واپس لوٹا،،،
تجھ سے احساس کی چاۓ بھی ابالی نہ گئ...
بہت ہی دور تک چلنا، مگر پھر بھی وہیں رہنا
مجھے تم سے ہی تم تک کے دائرے اچھے لگتے ہیں
پہنچ سے دور چمکتا سراب ، یعنی تو__
مجهے دکهایا گیا اک خواب ، یعنی تو__
میں جانتا ہوں ببول اور گلاب کے معنی
ببول یعنی زمانہ ، گلاب یعنی تو__
جمالیات کو پڑهنے کا شوق تها مجهے
عطا ہوا مکمل نصاب ، یعنی تو__
کہاں یہ ذرہ تاریک بخت یعنی میں
کہاں وہ نور بهرا ماہتاب ، یعنی تو__
نہ پوچھو حُسن کی تعریف ہم سے
محبت جس سے ہو بس وہ حسین ہے
ﻗﻠﺐ ﻓﻘﯿﺮ ﻣﺮﺿﯽ ﻣﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﻦ
ﻭﺍﻋﻆ ﮐﺎ ﺫﮨﻦ ﺛﻮﺍﺏ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﯿﺎ
ﺭﺯﻕ ﮐﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﺮ ﻣﻞ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ
ﺳﺎﺋﻞ ﻣﮕﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﯿﺎ
وفا کروں گا کسی سوگوار چہرے سے
پرانی قبر پہ کتبہ نیا سجا دوں گا
غریب گھرانوں میں بھی رشتے کیجئے حضور..
قسم خدا کی ! بڑے سلیقے سے رہتی ہیں
آج شاعری نہیں کچھ سورتیں ورد کرو
آج ہماری طرف شاید موت کی آمد ہے
قید میں گزرے گی جو عمر بڑے کام کی تھی
پر میں کیا کرتی کہ زنجیر ترے نام کی تھی
جس کے ماتھے پہ مرے بخت کا تارہ چمکا
چاند کے ڈوبنے کی بات اسی شام کی تھی
میں نے ہاتھوں کو ہی پتوار بنایا ورنہ
ایک ٹوٹی ہوئی کشتی مرے کس کام کی تھی
وہ کہانی کہ ابھی سوئیاں نکلیں بھی نہ تھیں
فکر ہر شخص کو شہزادی کے انجام کی تھی
یہ ہوا کیسے اڑا لے گئی آنچل میرا
یوں ستانے کی تو عادت مرے گھنشیام کی تھی
بوجھ اٹھاتے ہوئے پھرتی ہے ہمارا اب تک
اے زمیں ماں تری یہ عمر تو آرام کی تھی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain