اس نے یہ فاصلہ اس واسطے رکھا ہوگا
پاس آ کر مرے بیٹھے گا تو چرچا ہوگا
آج پھر اس نے مجھے یاد کیا ہے شاید
دل نے یوں ہی تو نہیں شور مچایا ہوگا
دیکھنا لوگ محبت کی مثالیں دیں گے
نام آئے گا مرا ذکر تمہارا ہوگا
درد بے چینی تڑپ رنج و الم تنہائی
ہم نے سوچا ہی نہیں اتنا خسارہ ہوگا
جس کو دن رات دعاؤں میں ہے مانگا ہم نے
وقت آئے گا کسی دن وہ ہمارا ہوگا
ہجر اس واسطے منظور کیا ہے میں نے
تیرا ہر زخم مجھے دل سے گوارا ہوگا
اس کی بے چینی بتاتی ہے کہ عادل راہیؔ
بھولا بسرا ہی کوئی یاد تو آتا ہوگا
عادل راہی
کتنی اذیت ہے اس خیال میں
مجھے تم سے ملے بنا ہی مر جانا ہے
ہم نے ایک عمر گزار دی تیرے چاہت میں
کتنا خوش ہوں گے تجھے مفت میں پانے والے
عشق تجھ سے ہوا تخیل میں
تو مری پارسا محبت ہے
🫵
:میں ایک شہر بساؤں گا جس کے ماتھے پر
یہ لکھا ہوگا یہاں پر وفا ضروری ہے۔۔۔۔
خدا کو بھول گیا تھا تیری محبت میں
بچھڑ کے تو نے بتایا خدا ضروری ہے
دونوں کا یہـی مــان تھا, مجـــھ کو منائــے وہ
دونوں کـے اسی مــان ســے قصـــہ تمـام شُـــد
میں کسی روز محبت سے مکر جاؤں گا
تیرے رنگین خیالوں سے نکل جاؤنگا
تیری آنکھوں کے نشے سے جان چھوٹی تو
تیرے رخسار کی عنایت بھول جاؤنگا
پھر نہ کام آئے گا تیری لٹوں کا اُلجھ جانا
تُو جو ملی تو انجان بن کے نکل جاؤنگا۔
یہ ٹھیک ہے کہ تیری بھی نیندیں اجڑ گئیں
تجھ سے بچھڑ کے ہم سے بھی سویا نہیں گیا
نصیب سے زیادہ بھروسہ تم پر کیا تھا صاحب
پھر بھی نصیب اتنا نہیں بدلا جتنا تم بدل گئے
کب کہاں کیا مرے دل دار اٹھا لائیں گے
وصل میں بھی دل بے زار اٹھا لائیں گے
چاہئے کیا تمہیں تحفے میں بتا دو ورنہ
ہم تو بازار کے بازار اٹھا لائیں گے
یوں محبت سے نہ ہم خانہ بدوشوں کو بلا
اتنے سادہ ہیں کہ گھر بار اٹھا لائیں گے
ایک مصرعے سے زیادہ تو نہیں بار وجود
تم پکارو گے تو ہر بار اٹھا لائیں گے
گر کسی جشن مسرت میں چلے بھی جائیں
چن کے آنسو ترے غم خوار اٹھا لائیں گے
کون سا پھول سجے گا ترے جوڑے میں بھلا
اس شش و پنج میں گلزار اٹھا لائیں گے
عطا تراب
اس نے آہستہ سے جب پکارا مجھے
جھک کے تکنے لگا ہر ستارا مجھے
تیرا غم اس فشار شب و روز میں
ہونے دیتا نہیں بے سہارا مجھے
ہر ستارے کی بجھتی ہوئی روشنی
میرے ہونے کا ہے استعارا مجھے
اے خدا کوئی ایسا بھی ہے معجزہ
جو کہ مجھ پر کرے آشکارا مجھے
کوئی سورج نہیں کوئی تارا نہیں
تو نے کس جھٹپٹے میں اتارا مجھے
عکس امروز میں نقش دیروز میں
اک اشارا تجھے اک اشارا مجھے
ہیں ازل تا ابد ٹوٹتے آئنے
آگہی نے کہاں لا کے مارا مجھے
امجد اسلام امجد
دسمبر کس لئےآخرہمیشہ خاص لگتاہے
وہ درجن بھر مہینوں میں
سدا ممتاز لگتا ہے
دسمبر کس لئے آخرہمیشہ خاص لگتا ہے
بہت سہمی ہوئی صبحیں
اداسی سے بھری شامیں
دوپہریں روئی روئی سی
وہ راتیں کھوئی کھوئی سی
دبیز و گرم شالوں کا
وہ کم روشن اجالوں کا
کبھی گزرے حوالوں کا
کبھی مشکل سوالوں کا
بچھڑ جانے کی مایوسی
ملن کی آس لگتا ہے
دسمبر کس لیے آخرہمیشہ خاص لگتا ہے
بد گمانی کو بڑھا کر تم نے یہ کیا کر دیا
خود بھی تنہا ہو گئے مجھ کو بھی تنہا کر دیا
یہ کس زہرہ جبیں کی انجمن میں آمد آمد ہے
بچھایا ہے قمر نے چاندنی کا فرش محفل میں
۔۔۔۔سید یوسف علی خاں
*تمہاری قدر کرتا ہوں اس پے ناز مت کرو ❤🩹🥹*
*مجھے قتل کر دو مگر نظر انداز مت کرو ...💔🥹*
*اب اعتبار پہ جی چاہتا تو ہے لیکن
*پرانے خوف دلوں سے کہاں نکلتے ہیں
میری خوبی پہ رہتے ہیں یہاں اہل زباں خاموش
میرےعیبوں پہ چرچا ہو تو گونگےبول پڑتے ہیں..
*ہم خود مانتے ہیں ہم کسی کے قابل نہیں ہیں
اندر کی ٹُوٹ پھوٹ میں ٹوٹے ہیں لفظ بھی
ورنہ یوں دورانِ گفتگو اٹکتا نہیں تھا میں۔۔!
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain