بارشوں کے موسم میں
دل کی سر زمینوں پر
گرد کیوں بکھرتی ہے؟
اس طرح کے موسم میں
پھول کیوں نہیں کھلتے؟
لوگ کیوں نہیں ملتے؟
کیوں فقط یہ تنہائی
ساتھ ساتھ رہتی ہے؟
کیوں بچھڑنے والوں کی
یاد ساتھ رہتی ہے؟
اتنی تیز بارش سے
دل کے آئینے پر سے
عکس کیوں نہیں دھلتے؟
زخم کیوں نہیں سلتے؟
نیند کیوں نہی آتی؟
بارشوں کے موسم میں
آنکھ کیوں برستی ہے؟
اشک کیوں نہیں تھمتے؟
بارشوں کے موسم میں
لوگ کیوں نہیں ملتے؟
بارش___
ہواؤں کی سنسناہٹ_____
مٹی کی خوشبو_____
کھڑکی پر دستک دیتی بارش کی بوندیں؛
مہکتی ہوئی خُوشبو
چائے کا کپ___
شاعری کی کتاب
دریچہ____
تنہائی____
اور بیتی ہوئی یادیں
کہنے کو جدا جدا..... مگر
جچتے ہیں اک ساتھ
بارش ، شاعری، میں چاۓ اور تم ❤
کھڑکیاں کھول رہا تھا کہ ہوا آئے گی... 🥀
کیا خبر تھی کہ چراغوں کو نگل جائے گی. 🥀
مجھ کو اِس واسطے بارش نہیں اچھی لگتی🥀
جب بھی آئے گی کوئی یاد اُٹھا لائے گی۔۔۔ 🥀
ﮨﺘﮫ ﭘﮑﮍ ﻃﺒﯿﺒﺎ ﻣﺮﺽ ﻧﮧ ﭘﭽﮫ
ﻧﮧ ﻋﺮﻕ ﭘﻼ ﻣﯿﻨﻮﮞ ﮐﺞ ﻭﯼ نئی
ﻧﮧ ﮐﺮ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﺩﻭﺍﺋﯿﺎﮞ ﻧﻮﮞ
ﻧﮧ ﭨﯿﮑﮯ ﻻ ﻣﯿﻨﻮﮞ ﮐﺞ ﻭﯼ نئی
ﻣﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﺩﮮ ﻭﭺ ﺑﯿﻤﺎﺭ پئیا
ﻧﮧ ﺷﻮﺭ ﻣﭽﺎ ﻣﯿﻨﻮﮞ ﮐﺞ ﻭﯼ نئی
ﺟﮯ ﻣﺮﺽ ﻣﯿﺮے ﺗﻮﮞ ﭘﭽﮭﺪﺍ ﺍﯾﮟ
ﻣﯿﻨﻮﮞ ﯾﺎﺭ ﻣﻼ ﻣﯿﻨﻮﮞ ﮐﺞ ﻭﯼ نئی
گلابوں کے ہونٹوں پہ لب رکھ رہا ہوں
اسے دیر تک سوچنا چاہتا ہوں
😘🦋
تجھ کو خبر کہاں کہ ترے نچلے ہونٹ میں
ایٹم کے لاکھ حملوں سے بڑھ کر تباہی ہے
وہ بات کرتے ہوئے کتنی بار ہنستی تھی
میں یاد رکھتا تھا ۔۔۔ پھر اسے بتاتا تھا
تیرے سوا کسی کی تمنا کروں گا میں
ایسا کبھی ہوا ہے جو ایسا کروں گا میں
گو غم عزیز ہے مجھے تیرے فراق کا
پھر بھی اس امتحان کا شکوہ کروں گا میں
یعنی کچھ اس طرح کہ تجھے بھی خبر نہ ہو
اس احتیاط سے تجھے دیکھ کروں گا میں
🦋🩷
نہیں تھا اعتبار اس کو میری مخلصی پر
کھو دیا اس نے مجھے آزماتے آزماتے
تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں مرے دل سے بوجھ اتار دو
میں بہت دنوں سے اداس ہوں مجھے کوئی شام ادھار دو
مجھے اپنے روپ کی دھوپ دو کہ چمک سکیں مرے خال و خد
مجھے اپنے رنگ میں رنگ دو مرے سارے رنگ اتار دو
کسی اور کو مرے حال سے نہ غرض ہے کوئی نہ واسطہ
میں بکھرگیا ہوں سمیٹ لو میں بگڑ گیا ہوں سنوار دو
🦋
یوں ہی رکھوگے امتحاں میں کیا
نہیں آئے گی جان جاں میں کیا
کیوں صدا کا نہیں جواب آتا
کوئی رہتا نہیں مکاں میں کیا
اک زمانہ ہے روبرو میرے
تم نہ آؤ گے درمیاں میں کیا
وہ جو قصے دلوں کے اندر ہیں
وہ بھی لاؤ گے درمیاں میں کیا
کس قدر تلخیاں ہیں لہجے میں
زہر بوتے ہو تم زباں میں کیا
دل کو شکوہ نہیں کوئی تم سے
ہم نے رہنا نہیں جہاں میں کیا
وہ جو اک لفظ اعتبار کا تھا
اب نہیں ہے وہ درمیاں میں کیا
میرے خوابوں کے جو پرندے تھے
ہیں ابھی تک تری اماں میں کیا
یہ بکھیڑا جو زندگی کا ہے
چھوڑ دوں اس کو درمیاں میں کیا
چند وعدے تھے چند دعوے تھے
اور رکھا تھا داستاں میں کیا
جب رات کے آخری پہر اللّٰه تمہیں تہجد پڑھنے کے لیے خود چنتا ہے، پھر سوچو، وہ تمہیں خالی ہاتھ کیسے لوٹائے گا۔ اس لیے، جب بھی رات کے آخری پہر آنکھ کھلے تو اسے بے وجہ مت سمجھ لینا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللّٰه تم سے تہجد میں ملاقات کرنا چاہتا ہے۔ ❤️
فجر اور تہجد خاموش نمازیں ہیں، ان میں بہائے گئے آنسوں کی پکار صرف اللہ دیکھتا اور سنتا ہے تب ہی تو ان میں مانگی گئی دعائیں اثر رکھتی ہیں تب ہی تو ان کو ادا کرنے کے بعد انسان کا دل سکون سے بھر جاتا ہے۔ ❤️
کیوں میری طرح راتوں کو رہتا ہے پریشاں
اے چاند بتا کس سے تری آنکھ لڑی ہے
🦋
پتہ نہیں کتنا ناراض ہے وہ مجھ سے
خوابوں میں بھی ملتا ھے تو بات نہیں کرتا
کتنی دلکش ہے بے رخی اس کی
میری ساری محبت فضول ہو جیسے
🦋
تیرے لہجے سے کیوں لگا مجھ کو
تو میرے روٹھنے پہ راضی ہے
🥺
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain