بدن کی سبھی دراڑوں سے بہہ رہا ہوں میں
اب اس سے بھر کر تیرا ہجر کیا اذیت دے...!!!
🖤🖤
*جن کو بتایا تھا تیرے بارے میں ...
اب وہ ہنستے ہیں مجھ پر....!!!*🥺💔
شام ہوتے ہے تو ہلچل سی مچا دیتے ہیں
ایک ترتیب سے رکھے ہوئے وعدے مجھ میں
عبداللہ حیدر
ہر سو دکھائی دیتے ہیں وہ جلوہ گر مجھے
کیا کیا فریب دیتی ہے میری نظر مجھے
جگر مراد آبادی
منیرؔ اچھا نہیں لگتا یہ تیرا
کسی کے ہجر میں بیمار ہونا
۔۔۔منیر نیازی ۔۔۔
رقم اتنی اکٹھی ہو گئی تھی
مگر وہ چیز مہنگی ہو گئی تھی
ہم اتنی گرم جوشی سے ملے تھے
ہماری چائے ٹھنڈی ہو گئی تھی
تمہارے بعد جتنا روئے تھے ہم
طبیعت اتنی اچھی ہو گئی تھی
سمجھ کر ہم دوائی پی گئے تھے
تمہاری بات کڑوی ہو گئی تھی
پلٹ آنا ہی بنتا تھا وہاں سے
ہمارے ساتھ جتنی ہو گئی تھی
ہوئی تھی دیر سے ہم کو محبت
ہماری جلد شادی ہو گئی تھی
سبھی محبوب اٹھ کر جا رہے تھے
کہانی اتنی لمبی ہو گئی تھی
پرندہ آئنے سے کیا لڑے گا
فریب ذات میں آ کر مرے گا
محبت بھی بڑی لمبی سڑک ہے
برہنہ پا کوئی کتنا چلے گا
ہمارے جاگنے تک دیکھنا تم
ہمارے خواب کا چرچا رہے گا
ہماری خاک سے دنیا بنی تھی
ہماری راکھ سے اب کیا بنے گا
یہ چنگاری بھڑک اٹھے گی اک دن
میاں یہ عشق ہے ہو کر رہے گا
تجھے دنیا کی عادت پڑ گئی ہے
اکیلا رہ گیا تو کیا کرے گا
میں تیرے ساتھ مر سکتا ہوں لیکن
تو میرے ساتھ کیا زندہ رہے گا
ابھی سے سوچ لو خانہ بدوشو
ہماری راہ میں صحرا پڑے گا
سمندر نے روانی سیکھ لی ہے
مرے دریا تمہارا کیا بنے گا
*کبھی دلبر کبھی دشمن کبھی دلدار ہو جانا*
*کہاں سے تم نے سیکھا ہے بڑا بیزار ہو جانا*
*کبھی اپنا بنا لینا کبھی دامن چُھڑا لینا*
*کبھی آساں کبھی مشکل کبھی دشوار ہو جانا*
*کبھی مل کر رقیبوں سے ہمارے حال پہ ہنسنا*
*کبھی میری مُحَبت میں گُل و گُلزار ہو جانا*
اٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نورِ باری حجاب میں ہے
زمانہ تاریک ہو رہا ہے کہ مہر کب سے نقاب میں ہے
نہیں وہ میٹھی نگاہ والا خدا کی رحمت ہے جلوہ فرما
غضب سے اُن کے خدا بچائے جلالِ باری عتاب میں ہے
جلی جلی بو سے اُس کی پیدا ہے سوزشِ عشقِ چشمِ والا
کبابِ آہو میں بھی نہ پایا مزہ جو دل کے کباب میں ہے
اُنھیں کی بو مایۂ سمن ہے اُنھیں کا جلوہ چمن چمن ہے
اُنھیں سے گلشن مہک رہے ہیں اُنھیں کی رنگت گلاب میں ہے
تِری جلو میں ہے ماہِ طیبہ ہلال ہر مرگ و زندگی کا!
حیات جاں کا رکاب میں ہے ممات اَعدا کا ڈاب میں ہے
سیہ لباسانِ دارِ دنیا و سبز پوشانِ عرشِ اعلیٰ
ہر اک ہے اُن کے کرم کا پیاسا یہ فیض اُن کی جناب میں ہے
وہ گُل ہیں لب ہائے نازک ان کے ہزاروں جھڑتے ہیں پھول جن سے
گلاب گلشن میں دیکھے بلبل یہ دیکھ گلشن گلاب میں ہے
کبھی رنجش، کبھی راحت، کبھی آزار تھا شاید
کہانی کا وہ الجھا سا کوئی کردار تھا شاید
دلائل پاس تھے پھر بھی ہم اس سے ہار جاتے تھے
بہت سادہ تھے ہم یا وہ بہت مکار تھا شاید
تم تو کہتے تھے الہام ہوتے ہیں
تُو بھی نہ سمجھ سکا پریشان ہوں میں
یہ اذیت بھلا کم ہے تیرے ہوتے
میں کسی اور سے کہوں پریشان ہوں می
🦋💋
ﺟﻦ ﮐﻮ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﻣﯿﺴﺮ ﮨﮯ ﺗﯿﺮﺍ
ﻭﮦ ﮐﮩﺎﮞ ﺑﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ
کتاب آنکھیں، فسانہ چہرہ، غزل نگاہیں، حسین مکھڑا
ردیف رنگت ، قوافی زلفیں، ہنسی سفینہ، نگین مکھڑا
رباب بندش، بدن قصیدہ، گریز جوبن، بہار فتنہ
شباب مصرعہ، جمال مطلع، قتال مقطع، متین مکھڑا
کمال لہجہ، نفیس باتیں، وقار فقرے، بلند آہنگ
سلگتی قربت، پگھلتا نخرہ، ادائیں قاتل، معین مکھڑا
فصیح ابرو، بلیغ پلکیں، سلاسی زلفیں، ثقیل جُوڑا
ذقن لطیفی ،نظر رموزی، حسن رباعی، فطین مکھڑا
بیاں شگفتہ، خیال سادہ، مزاج منطق، سلیس جملے
سراپا سخنی ، لطیف جسمی، وجود نظمی ، سبین مکھڑا
جمیل مکھڑا، نظیر مکھڑا، عقیق مکھڑا، عتیق مکھڑا
نسیم مکھڑا، رفیق مکھڑا، عظیم مکھڑا، مبین مکھڑا
آفتاب شاہ
For someone special. 🌹
🍂 🦋 🍂
مجھے ترس آتا ہے ان آنکھوں پر
جنہوں نے تمہیں نہیں دیکھا
ہم وصل کے لمحوں میں بھی سہتے ہیں اذیت
ہر وقت بچھڑ جانے کے امکان رہے ہیں
افسوس کہ دنیا ہمیں پہچان نہ پائی
اور آپ بھی غیروں کا کہا مان رہے ہیں
جی چاہتا ہے پھر کوئی تجھ سے کروں سوال
تیری نہیں نہیں نے غضب کا مزا دیا
آؤ تمہارے ہونٹوں ______سے ہونٹ ملاؤں
اپنی محبت کا جام_______ آج تمہیں پلاؤں
ہم تو موسم کا تغیر نہیں سہہ پاتے ہیں
آپ لہجے کو بدلتے ہوئے سوچا تو کریں
معلوم جو ہوتا ہمیں انجام محبت
لیتے نہ کبھی بھول کے ہم نام محبت
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain