تجھے اب کس لئے شکوہ ہے بچے گھر نہیں رہتے
جو پتے زرد ہو جائیں وہ شاخوں پر نہیں رہتے...
کبھی عِشق سَاز ازل میرا ، مجھے سوز کی وہ کتاب دے
جو لحد میں جا کے بیاں کروں، تو فرشتہ بھی نہ جواب دے
یا تُو آ کبھی یا بُلا مجھے ، یا تو سُن میری یا سُنا مجھے🙏
یا چُھپا مجھے بھی نقاب میں ، یا اُتار رُخ سے نقاب دے
میرا کیا فنا ٕ سے ھے واسطہ ، میرا نام داٸم ازل سے ھے🙏
میرا ختم حِساب کِتاب ھے ، کوٸ جا کے اَپنا حِساب دے
ستمگروں نے ہمیں مہلتِ دعا بھی نہ دی
ہمارے خواب تھے کچھ بستیاں بسانے کے...
*" اُس سے کہوں گا کہ ؛ اچھی نیند آتی ہے ، نہیں بتاؤں گا کہ ؛ نیند کی دواؤں سے! ۔"*🙂💔
*
واہ غالــب "تیـــرے" عِشق کے فَتــــوے بھی "نِرالـــے"
❤
وہ دیکھیـــــں تو "ادا"۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم دیکھیــــں تو "گنـــاہ"❤
پتوں کی طرح بکھرا تھا زمانے نے مجھے🍂🍂
پھر ایک شخص نے سمیٹا اور آگ لگا دی🔥🔥
اندھیروں نے گھیرا مجھے ہر طرف سے
کبھی روشنی کی کرن بن کے لوٹ آ...
تیرے لیے یہ دل کبھی پتھر نہیں ہوا
تیری طلب رہی تُو ہمسفر نہیں ہوا...
آٶ بتاٶں تم کو کہ میرے کیا ہو تم
تہجد کی دعا ہو تم میری رب سے واحد استجا ہو تم...
وقت اک جیسا نہیں رہتا بدل جائے گا
تیری چاہت میں جو بکھراہےسنبھل جائےگا...
آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم
اب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ ...
MIRZA GHALIB....
دکھ دے کر سوال کرتے ہو
تم بھی غالب کمال کرتے ہو...
یہ کس خلش نے پھر اس دل میں آشیانہ کیا
پھر آج کس نے سخن ہم سے غائبانہ کیا...
نہ جانے کس لیے امیدوار بیٹھا ہوں
اک ایسی راہ پہ جو تیری رہ گزر بھی نہیں ...
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا ...
ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی
جذبات میں وہ پہلی سی شدت نہیں رہی...
وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں
جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں...
ہم انہیں وہ ہمیں بھلا بیٹھے
دو گنہ گار زہر کھا بیٹھے...
یہ عمــــر تھی نہ ابھی ہجــــر کے زمانے تھے
مجـھے تــو یار ابـــھی قہقہـــے لـگانے تھـــے...
دھوکے پہ دھوکہ اس طرح کھاتے چلے گئے
ہم دشمنوں کو دوست بناتے چلے گئے...
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain