کوئی کس طرح رازِ اُلفت چھپائے نگاہیں ملیں اور قدم ڈگمگائے وہ مجبوریوں پر مری مسکرائے یہاں تک تو پہنچے، یہاں تک تو ائے محبت میں کچھ اتفاقات بھی تھے کہ جو میری تقدیر بننے نہ پائے ترا غم بھلا کیا چھپائے سے چھپتا بہت اشک روکے بہت مسکرائے وہ اس طرح میرے برابر سے گذرے ادائیں سنبھالے ، نگاہیں جھکائے زمانے کے جوروستم توبہ توبہ کہ اکثر تو مجھ کو نہ تم یاد آئے ترے روبرو گر نظر مطمئن ہو تو سینے میں دل بھی دھڑکے نہ پائے میں اس احتیاطِ نظر کے تصدّق نہ بیگانہ سمجھے نہ اپنا بنائے یہی تو جوابِ شکایت تھا نخشب مرے شعر اس نے مجھ ہی کو سنائے
اُلجھن کا عِلاج آہ کوئی کام نہ آیا ! جی کھول کے رویا بھی تو آرام نہ آیا دل سینے میں جب تک رہا آرام نہ آیا کام آئے گا کِس کے جو مِرے کام نہ آیا کام اُس کے نہ کاش آئے وہ مغرور بھی یونہی جیسے دلِ آوارہ مِرے کام نہ آیا یہ کہہ کے وہ سرہانے سے بیمار کے اُٹّھے صد شکر، کہ مجھ پر کوئی الزام نہ آیا بجلی سی کوئی شے مِرے سینہ میں کبھی تھی سوچا تو بہت، یاد مگر نام نہ آیا تا حشر نہ بُھولے گا عزیز اپنی شبِ ہجر کیا رات تھی وہ رات، کہ آرام نہ آیا عزیز لکھنوی