بہترین سردار ہونے کی وجہ سے،کمال سرپرستی کی وجہ سے،اور بہترین بیان کرنے کی وجہ سے،اور بہترین شفقت فرمانے کی وجہ سے 💮 اور سیدھے راستے پر لانے کی وجہ سے،اور امانت داری کی وجہ سے اور بہترین رہبری کی وجہ سے۔
مخلوق میں سب سے بڑے،مخلوق میں سب سے زیادہ بزرگی والے،مخلوق میں سب سے زیادہ حسین،مخلوق میں سب سے زیادہ جمال💮 والے(پسندیدہ)،مخلوق میں سب سے زیادہ کامل ترین،مخلوق میں سب سے زیادہ خوبصورت/نورانی۔
اِس کے بعد ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہمارے سردار اور ہمارے خدا سے ملانے والے(ربط/واسطہ) اورہمارے نبی ہمارے مدد گار💮 ہمارے مدد گار،ہمارے مالک،ہماری زندگیوں کو منظم کرنے والے،ہمیں گناہوں سے پاک کرنے والے۔
ذات ایزدی کے علاوہ(کو چھوڑ کر) جو کسی نبی (پیغمبر) اور کِسی ولی(مدد گار) اور کِسی پرہیزگار اور کِسی صاف گو اور کِسی نرم رو اور کِسی 💮 خوبصورت اور شباھت والے پسندیدہ اور کِسی چھوٹے اور کِسی بڑے سے برکت چاہے،تو وہ سرا سر نقصان اور قہر خدا میں ہوگا۔
اِس کے بعد ہم گواہی دیتے ہیں نہیں کوئی عبادت کے لائق مگر ایک اللّٰہ جو اکیلا اور اُس کا کوئی شریک نہیں💮کون ہے جوs شریک ہو اُس کی حقیقت (ذات) میں،خوبیوں میں،مزاج/کام میں،نشانیوں/مظاہر میں۔
اور کوئی اُس (اللّٰہ تعالیٰ)کی ٹکر(مدمقابل)کا نہیں،اور کوئی اُس (اللّٰہ تعالیٰ) پر رعب ڈالنے والا نہیں،اور کِسی کا اُس سےکوئی ذاتی 💮(رشتے داری) میں تعلق نہیں،اور نہ ہی حال اور مستقبل میں کوئی ایسا ہوگا،اور نہ کوئی اُس سے زبانی تکرار کرنے والا ہے۔
نہ اُس کا کوئی خول ہے نہ اس کا کوئی مالک ہے،نہ وہ پیدا ہوا اور نہ اس کا کوئی بدن ہے،اور نہ اس (کی ذات) کا کوئی حصہ ہے جس کہ کہی مستقل💮 ٹکھانا ہو،اُس کے اوصاف میں کِسی عیب(نقص) کو در آنے کی مجال (جرات) نہیں،(چاہتے ہوئے) کوئی اُسے نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
اور (خدائی طاقت میں) اُس (اللّٰہ تعالیٰ)کا کوئی نائب نہیں،اور کوئی اُس(اللّٰہ تعالیٰ) کی ٹکر (مدمقابل)کا نہیں،اور نہ کوئی💮 اُس(اللّٰہ تعالیٰ)پر رعب ڈالنے والا ہے،اور کسی کا اُس سے ذاتی(رشتہ داری)میں تعلق نہیں،اور نہ ہی حال اور مستقبل میں کوئی ایسا ہوگا۔
اُس کا کوئی ثانی(دوسرا) نہیں، وہ ایک ہے،زمان و مکان کی قید سے آزاد،(اُسکی کوئی ابتداء ہے اور نہ ہی انتہاء)💮 اور پوجنے (عبادت) کے لئے وہی ہے اور وہ اپنی خوبیوں میں نہایت کامل ہے۔
وہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اُسکا کوئی شریک نہیں،وہ اللّٰہ تعالیٰ ایک ہے،وہ اللّٰہ تعالیٰ اپنی ذات میں ایک ہے،وہ تنہا ہے 💮 وہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں ایک ہے،وہ تنہا ہے،وہ اللّٰہ تعالیٰ اپنی ذات میں ایک ہے
وہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہے،وہی اللّٰہ تعالیٰ جاہ و جلال والا ہے،وہی اللّٰہ تعالیٰ بادشاہ ہے،اور اسی اللّٰہ تعالیٰ کا حکم ہے💮 اور وہ اللہ تعالیٰ مضبوط غیر متززل طاقتور اور وہی اللّٰہ تعالیٰ ایمان لانے کے لائق ہے اور یہ بیان قرآن فرقان کریم میں
اور اللہ تعالیٰ اپنی ہستی میں(ذات،ہیئت)اور اللہ تعالیٰ اپنے اِنصاف میں اور اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی میں💮 اور اللہ تعالیٰ اپنے اندازِ بیان میں اور اللّٰہ تعالیٰ اپنی بزرگی میں اٹل (پختہ،مصمم)ہے