GaMBLeR's posts | Damadam
GaMBLeR's posts:
سبھی کے درمیاں آتی ہے مختصر دوری

ہمارے بیچ مگر ٹھیک ٹھاک آئی ہے
ہم تو اور بھی مشکلوں سے تنگ ہے

عشق تو صرف ایک بہانہ ہے
ہم لوگ بھی کتنے عجیب ہیں
ہمیں لوگوں سے بات چیت بھی کرنی ہے اور کرتے بھی نہیں۔۔اُنہیں کُچھ بتانا ہوتا ہے پر بتا ہی نہیں پاتے۔۔
میرے خیال سے یا تو وہ بہانہ بنا کر بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں
یا پھر اس شخص سے وہ بات زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔۔کیا کہتے ہو آپ لوگ اِس بارے میں
جب رشتوں میں خلاء پیدا ہو جاۓ تب

تب اُس خلاء کو پر کرنے کے لئے طویل عرصہ درکار ہوتا ہے
آداب عرض ہے
ہم کاغذ کے جہاز اُڑانے والے

عشق کے سمندر میں ڈبو گئے
ظاہر ہے۔۔ڈی ڈی ایم پر تو سب مستی کے موڈ میں نہیں ہوتے
کُچھ لوگ ہماری طرح سنجیدہ بھی ہوا کرتے ہیں؟
کہتے ہیں آپ جتنا اچھا لکھ لیں __ جتنا اچھا بول لیں اور جیتنے اچھے طریقے سے بتا دیں__ دوسروں کو آپ بدل نہیں سکتے نا ان کی سوچ نا ان کے کردار
اگر وہ منفی سوچتے ہیــــــــں تو آپ کتنا مثبت لکھ لیں لوگ اس کو منفی ہی لیں گے کیونکہ ان کی عادت اپنی سوچ بدلنے کی نہیں ہوتی وہ بس جو سوچ لیں وہ ہی ٹھیک ہوتا ھے

کوئی اگر آپ کے کردار پر یا آپ کی بات پر منفی سوچتا ھے تو اس کو سوچنے دیں __ اس کو روکیں نہیں __ کیوں کہ نا آپ اس کو مطمئن کر سکتے ہیں نا آپ اس کو بدل سکتے ہیں

اور کچھ لوگوں کا ویسے ہی منفی سوچنے کا ٹھیکہ ہوتا ھے تو ان کو ڈسٹرب کرنے کا کیا فائدہ
لہذا کسی کو اپنی صفائی نا دیں اپنی زندگی کو پرسکون گزاریں لوگوں کا اور کام ہی کیا ھے دوسروں کے بارے میں رائے قائم کرنا
°ﮐﭽﮫ ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ کو ختم کرنا ہی ہمارے لئے بہتر ہوتا ہے ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍُﻥ ﺳﮯ ہماﺭﯼ ﻭﺍﺑﺴﺘﮕﯽ ﺻﺮﻑ ﻟﻔﻆ
"ﺗﻌﻠﻖ " ﮐﯽﺣﺪ ﺗﮏ ہوﺗﯽ ، اُن ﻣﯿﮟ " ﺍﺣﺴﺎﺱ " ﻧﮩﯿﮟ ہوﺗﺎ

بلکہ ﺍُﻧﮩﯿﮟ ﻧﺒﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ صرف سمجھوتا کر کے دن رات تعلق کو ﮔﮭﺴﯿﭩﻨﺎ ہوتا ہے،
ﮐﺒﮭﯽ ﭘُﺮﺍﻧﺎ ﺣﻮﺍﻟﮧ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺗﻮ کبھی کچھ یاد کروا ﮐﺮ اور کبھی واسطہ دے کر ﺿﺮﻭﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ہر شخص اتنا مضبوط ہو ﮐﮧ ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ کو لمبے عرصے تک ﮔﮭﺴﯿﭧ سکے

جہاں سمجھیں اب ہم
اضافی بوجھ کے سوا کچھ نہیں
وہاں عزت سے کنارہ کر لینا عزت نفس کو قربان کر دینے سے بہتر ہے
اگر آپ کو کوئی نا پسند ہے تو اسکی تمام خامیوں کا چرچا کر کے باقی لوگوں کو بھی اس سے نفرت کرنے پہ مجبور نا کریں
اگر محبت نہیں کر سکتے تو نفرت بھی نہ کریں۔
ہر کسی کے دو رخ ہوتے ہیں یہ اس پر منحصر ہے کہ وہ دنیا کے سامنے آئینہ بن کر پیش ہو یا سونا ۔ آئینہ بنے گا تو دھتکارا جائے گا ٹھکرایا جائے گا کہ کوئی بھی اپنا اصل چہرہ دیکھنا نہیں چاہتا اور سونا بن کر پیش ہوا تو سب اپنے اپنے مفاد اور لالچ کی وجہ سے اس کے گردا گرد حاضر خدمت رہیں گے 
ضروری نہیں کہ ہم جِس کے متعلق جیسا سوچیں وہ ویسا ہی ہو
ہر شخص کے دو مزاج ہوتے ہیں
ہر لمحہ تمہیں یاد کر کے
خود کو اذیت دیتا ہوں
مصروف اور مغرور دونوں قسم کے لوگ زہر لگتے ہیں