وہ دل ہے جو کسی کے حسن کا کاشانہ ہو جائے
وہ سر ہے جو کسی کی تیغ کا نذرانہ ہو جائے
مجھ چردی سر چایا
کوئی دن دس سکدا ایں
توہے سدیا اے، میں نہیں آیا
اس نہیں کا کوئی علاج نہیں
روز کہتے ہو آج نہیں
یار ڈھاڈی عشق آتش لائی وے
اک ذرا سا غم دوراں کا بھی حق ہے جس پر
میں نے وہ سانس بھی تیرے لیئے رکھ چھوڑی ہے
دل پہ زخم کھاتے ہیں
جان سے گزرتے ہیں
جرم صرف اتنا ہے
ان کو پیار کرتے ہیں
ربا میرے حال دا محرم تو
اندر وی تو باہر وی تو
پریشاں رات ساری ہے ستارو تم تو سو جاؤ
سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں
سنا ہے رات میں جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں
خدا خود میر مجلس بود اندر لامکاں خسرو
محمد شمع محفل بود شب جائی کہ من بودم
پری پیکر نگارے سروُ قد و لالہ رخصار
سراپا آفتِ دل بود شب جائی کہ من بودم
نمی دانم چی منزل بود شب جائی کہ من بودم
دو نین میرے دو نین تیرے
جب ملے تو مل کے چار ہوئے
Pa de shakmana Balay ma odrega
Kalay khabar de sok de una weeni
زمانے بھر کے غم یا اک تیرا غم
یہ غم ہو گا تو کتنے غم نہ ہوں گے
جب یاد اس کمبخت کی ہو
تو اے دل ہے مشکل
آئے ہیں سمجھانے لوگ
ہیں کتنے دیوانے لوگ
آپ تو بھول گئے
ہم سے یہ بھی نہ ہوا
ہر صبح میری صبح پہ روتی رہی شبنم
ہر رات میری رات پہ ہنستے رہے تارے
کچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غمِ جاناں
کب تک کوئی اُلجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے
وہ بھی اپنے نہ ہوئے دل بھی گیا ہاتھوں سے
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا دل کا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain