Damadam.pk
Garammizaj's posts | Damadam

Garammizaj's posts:

Garammizaj
 

توسل سے ترے دل میں بھروں گا قوتیں برقی
ذرا میری طرف بھی اے نگاہ یار ہو جانا
وہ آرائش میں سب قوت کسی کا صرف کر دینا
تحمل میں وہ ہر کوشش مری بے کار ہو جانا
معاذ اللہ اب یہ رنگ ہے دنیا کی محفل کا
خدا کا نام لینا اور ذلیل و خوار ہو جانا
رگوں سے خون سارا زہر بن کر پھوٹ نکلے گا
ذرا اے جوشؔ ضبط شوق سے ہشیار ہو جانا

Garammizaj
 

گداز دل سے باطن کا تجلی زار ہو جانا
محبت اصل میں ہے روح کا بیدار ہو جانا
نوید عیش سے اے دل ذرا ہشیار ہو جانا
کسی تازہ مصیبت کے لیے تیار ہو جانا
وہ ان کے دل میں شوق خودنمائی کا خیال آنا
وہ ہر شے کا تبسم کے لیے تیار ہو جانا
مزاج حسن کو اب بھی نہ سمجھو تو قیامت ہے
ہمارا اور وفا کے نام سے بے زار ہو جانا
سحر کا اس طرح انگڑائی لینا دل فریبی سے
ادھر شاعر کے محسوسات کا بیدار ہو جانا

Garammizaj
 

اک راستہ ہے زندگی جو تھم گئے تو کچھ نہیں

Garammizaj
 

روم روم تیرا نام پکارے

Garammizaj
 

آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد
آج کا دن گزر نہ جائے کہیں

Garammizaj
 

نیئتِ شوق بھر نہ جائے کہیں
تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں

Garammizaj
 

Gham na kar ....Sab Waqti hai

Garammizaj
 

وہ مجھ کو دستیاب بڑی دیر تک رہا
میں اُس کا انتخاب بڑی دیر تک رہا
دیکھا تھا اس نے مڑ کے مجھے اک نظر تو پھر
آنکھوں میں اضطراب بڑی دیر تک رہا
گن گن کے اُس نے جب مجھے احسان جتائے
پوروں پہ پھر حساب بڑی دیر تک رہا
اک عمر تک میں اس کو بڑا قیمتی لگا
وہ بھی مجھے نایاب بڑی دیر تک رہا

Garammizaj
 

Agar Che Kisi Baat Par Wo Khafa Hai
To Acha Yahi Hai Tum Apni Si Kar Lo

Garammizaj
 

یہ جو پتھر کے ہو گئے ہیں لوگ اپنے حصے کا رو چکے ہوں گے

Garammizaj
 

بے وفائی تو کتنی خود رو ہے
اگتی جاتی ہے جتنی کاٹی ہے

Garammizaj
 

Maybe you are searching among the Branches for what only appears in the roots

Garammizaj
 

Those who don't want to change
Let them Sleep

Garammizaj
 

دل فقیری پہ اتر آئے تو
الجھ پڑتا ہے بادشاہوں سے

Garammizaj
 

جو درد تم محسوس کرتے ہو
وہ پیغامات ہیں انہیں غور سے سنو

Garammizaj
 

پر سکون وہ ہے جس کو
کم یا زیادہ کی فکر نہیں

Garammizaj
 

اب خوشی دے کر آزما لے خدا
ان غموں سے تو میں نہیں مرتا

Garammizaj
 

اگر مجھ سے محبت ہے
مجھے سب اپنے غم دے دو

Garammizaj
 

اے میرے ہم نشیں چل کہیں اور چل
اس چمن میں اب اپنا گزارا نہیں
بات ہوتی گلوں تک تو سہہ لیتے ہم
اب تو کانٹوں پہ بھی حق ہمارا نہیں
آج آۓ ہو تم کل چلے جاوٴ گے
یہ محبت کو اپنی گوارا نہیں
عمر بھر کا سہارا بنو تو بنو
دو گھڑی کا سہارا سہارا نہیں
دی صدا دار پر اور کبھی طور پر
کس جگہ میں نے تم کو پکارا نہیں
ٹھوکریں یوں کھلانے سے کیا فائدە
صاف کہہ دو کہ ملنا گوارا نہیں
وە یقیناً سنیں گے صدائیں میری
کیا تمہارا خدا ہے ہمارا نہیں
آج گھر سے چلا ہوں یہی سوچ کر
یا تو نظریں نہیں یا نظارہ نہیں
جانے کسی کی لگن کس کی دھن میں مگن
ہم کو جاتے ہوۓ مڑ کے دیکھا نہیں
ہم نے آواز پر تم کو آواز دی
پھر بھی کہتے ہو ہم نے پکارا نہیں

Garammizaj
 

Pal bhar teher jao
dil ye sambhal jaye
kese tumhain roka karoon