توسل سے ترے دل میں بھروں گا قوتیں برقی
ذرا میری طرف بھی اے نگاہ یار ہو جانا
وہ آرائش میں سب قوت کسی کا صرف کر دینا
تحمل میں وہ ہر کوشش مری بے کار ہو جانا
معاذ اللہ اب یہ رنگ ہے دنیا کی محفل کا
خدا کا نام لینا اور ذلیل و خوار ہو جانا
رگوں سے خون سارا زہر بن کر پھوٹ نکلے گا
ذرا اے جوشؔ ضبط شوق سے ہشیار ہو جانا
گداز دل سے باطن کا تجلی زار ہو جانا
محبت اصل میں ہے روح کا بیدار ہو جانا
نوید عیش سے اے دل ذرا ہشیار ہو جانا
کسی تازہ مصیبت کے لیے تیار ہو جانا
وہ ان کے دل میں شوق خودنمائی کا خیال آنا
وہ ہر شے کا تبسم کے لیے تیار ہو جانا
مزاج حسن کو اب بھی نہ سمجھو تو قیامت ہے
ہمارا اور وفا کے نام سے بے زار ہو جانا
سحر کا اس طرح انگڑائی لینا دل فریبی سے
ادھر شاعر کے محسوسات کا بیدار ہو جانا
اک راستہ ہے زندگی جو تھم گئے تو کچھ نہیں
روم روم تیرا نام پکارے
آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد
آج کا دن گزر نہ جائے کہیں
نیئتِ شوق بھر نہ جائے کہیں
تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں
Gham na kar ....Sab Waqti hai
وہ مجھ کو دستیاب بڑی دیر تک رہا
میں اُس کا انتخاب بڑی دیر تک رہا
دیکھا تھا اس نے مڑ کے مجھے اک نظر تو پھر
آنکھوں میں اضطراب بڑی دیر تک رہا
گن گن کے اُس نے جب مجھے احسان جتائے
پوروں پہ پھر حساب بڑی دیر تک رہا
اک عمر تک میں اس کو بڑا قیمتی لگا
وہ بھی مجھے نایاب بڑی دیر تک رہا
Agar Che Kisi Baat Par Wo Khafa Hai
To Acha Yahi Hai Tum Apni Si Kar Lo
یہ جو پتھر کے ہو گئے ہیں لوگ اپنے حصے کا رو چکے ہوں گے
بے وفائی تو کتنی خود رو ہے
اگتی جاتی ہے جتنی کاٹی ہے
Maybe you are searching among the Branches for what only appears in the roots
Those who don't want to change
Let them Sleep
دل فقیری پہ اتر آئے تو
الجھ پڑتا ہے بادشاہوں سے
جو درد تم محسوس کرتے ہو
وہ پیغامات ہیں انہیں غور سے سنو
پر سکون وہ ہے جس کو
کم یا زیادہ کی فکر نہیں
اب خوشی دے کر آزما لے خدا
ان غموں سے تو میں نہیں مرتا
اگر مجھ سے محبت ہے
مجھے سب اپنے غم دے دو
اے میرے ہم نشیں چل کہیں اور چل
اس چمن میں اب اپنا گزارا نہیں
بات ہوتی گلوں تک تو سہہ لیتے ہم
اب تو کانٹوں پہ بھی حق ہمارا نہیں
آج آۓ ہو تم کل چلے جاوٴ گے
یہ محبت کو اپنی گوارا نہیں
عمر بھر کا سہارا بنو تو بنو
دو گھڑی کا سہارا سہارا نہیں
دی صدا دار پر اور کبھی طور پر
کس جگہ میں نے تم کو پکارا نہیں
ٹھوکریں یوں کھلانے سے کیا فائدە
صاف کہہ دو کہ ملنا گوارا نہیں
وە یقیناً سنیں گے صدائیں میری
کیا تمہارا خدا ہے ہمارا نہیں
آج گھر سے چلا ہوں یہی سوچ کر
یا تو نظریں نہیں یا نظارہ نہیں
جانے کسی کی لگن کس کی دھن میں مگن
ہم کو جاتے ہوۓ مڑ کے دیکھا نہیں
ہم نے آواز پر تم کو آواز دی
پھر بھی کہتے ہو ہم نے پکارا نہیں
Pal bhar teher jao
dil ye sambhal jaye
kese tumhain roka karoon
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain