سمبھالو ذرا اپنا آنچل گلابی
یہ عنایتیں غضب کی یہ بلا کی مہربانی
میری خیریت بھی پوچھی کسی اور کی زبانی
آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد
آج کا دن گزر نہ جائے کہیں
گرمیئ حسرتِ ناکام سے جل جاتے ہیں
ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں
خوفِ طوفان ہے بجلیوں کا ہے ڈر
سخت مشکل ہے آقاٌ کدھر جائیں ہم
آپٌ ہی گر نہ لینگے ہماری خبر
ہم مصیبت کے مارے کدھر جائیں گے
ہم نہ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتے
خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے
اک مدت سے ہوں لذت گِریہ سے بھی محروم
اے راحتِ جاں مجھ کو رلانے کیلیئے آ
نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے
کرے پیار لب پہ گِلہ نہ ہو
یہ کسی کسی کا نصیب ہے
میں اپنی ہی الجھی ہوئی راہوں کا تماشا
اس کی امید ناز کا ہم سے یہ مان تھا
کہ آپ عمر گزار دیجیئے
سو عمر گزار دی گئی
مانگے فقیر دعائیں اللہ
یار دی صورت ماشاءاللہ
Koi apna nahi Gham k marey hain Hum
اپنا یہ حال کہ جی ہار چکے لٹ بھی چکے
اور محبت وہی انداز پرانے مانگے
دل کسی حال پہ قانع ہی نہیں جان فراز
مل گئے تم بھی تو کیا اور نہ جانے مانگے
حسرت ہے کوئی غنچہ ہمیں پیار سے دیکھے
ارماں ہے کوئی پھول ہمیں دل سے پکارے
آئے ہیں سمجھانے لوگ
ہیں کتنے دیوانے لوگ
وقت پہ کام نہیں آتے
یہ جانے پہچانے لوگ
اس انجمن میں آپکو آنا ہے بار بار
دیوار و در کو غور سے پہچان لیجئے
وہ بھی اپنے نہ ہوئے دل بھی گیا ہاتھوں سے
ہم تڑپتے رہیں گے یہاں رات بھر
تم تو آرام کی نیند سو جاو گے
اس قدر اب غمِ دَوراں کی فراوانی ہے
تُو بھی مِنجُملۂ اسبابِ پریشانی ہے
مُجھ کو اِس شہر سے کُچھ دُور ٹھہر جانے دو
میرے ہمراہ مِری بےسروسامانی ہے
آنکھ جُھک جاتی ہے جب بند ِ قبا کُھلتے ہیں
تُجھ میں اُٹھتے ہُوئے خُورشید کی عُریانی ہے
اِک تِرا لمحۂ اقرار نہیں مر سکتا
اَور ہر لمحہ زمانے کی طرح فانی ہے
کُوچۂ دوست سے آگے ہے بہت دشتِ جنُوں
عِشق والوں نے ابھی خاک کہاں چھانی ہے
اِس طرح ہوش گنوانا بھی کوئی بات نہیں
اَور یُوں ہوش سے رہنے میں بھی نادانی ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain