ساتھ شوخی کے کچھ حجاب بھی ہے
اس ادا کا کہیں جواب بھی ہے
میرے آقا محمد سے سونڑا ہے کوئی بھلا
وفا کریں گے نبھائیں گے بات مانیں گے
تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا
کوئی تو ایسا ہو
جو اندر سے باہر جیسا ہو
اے رحمتِ تمام میری ہر خطا معاف
میں انتہائے شوق سے گھبرا کے پی گیا
آشنا درد سے ہونا تھا کسی طور ہمیں
تو نا ملتا تو کسی اور سے بچھڑے ہوتے
تم جو آئے زندگی میں بات بن گئی
Wa da Swatiano na me Zaar k
.
Tor lawang Lalii rawaray Zama da para
تیرے درد کی میں دوا بنوں
ہم سے یہ سوچ کر کوئی وعدہ کرو
ایک وعدے پے عمریں گزر جائیں گی
یہ ہے دُنیا یہاں کتنے اہلِ وفا
کیا سے کیا ہو گئے دیکھتے دیکھتے
سوچنے والوں کی دنیا
دنیا والوں کی سوچ سے الگ ہوتی ہے
زندگی کو بدلنے میں وقت نہیں لگتا
وقت کو بدلنے میں زندگی لگ جاتی ہے
یہ حقیقت ہے کہ احباب کو ہم
یاد ہی کب تھے جو اب یاد نہیں
ہونٹوں پہ کبھی اس کے میرا نام تو آئے
Uwaya Zahid ta Gunah Za kawam
Zor kho e Kambakhta pa Ta na Razi
اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے
زندہ ہیں، یہی بات بڑی بات ہے پیارے
یہ ہنستا ہوا چاند، یہ پرنور ستارے
تابندہ و پائندہ ہیں ذروں کے سہارے
حسرت ہے کوئی غنچہ ہمیں پیار سے دیکھے
ارماں ہے کوئی پھول ہمیں دل سے پکارے
ہر صبح میری رات پہ روتی رہی شبنم
ہر رات میری صبح پہ ہنستے رہے تارے
کچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غم جاناں
کب تک کوئی الجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے
وہ جس کی روشنی کچے گھروں تک بھی پہنچتی ہے
نہ وہ سورج نکلتا ہے نہ اپنے دن بدلتے ہیں
Khudai de Mayan Der ka che Khere kawe
Nor rata His Chal da Dua na Razi
بات تو صرف اک رات کی تھی مگر
انتظار آپکا عمر بھر کر لیا
میری بے زباں آنکھوں سے گرے جو چند قطرے
جو سمجھ سکے تو آنسو نا سمجھ سکے تو پانی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain