Ma Za Sahar dai sok de Una weni
Kalay khabar dai sok de una Weeni
Zama da har sari na Yara Kegi
Pa cha Bawar dai sok de una Weeni
Pa de Shakmana Balai ma Odrega
Wakh mazigar dai Sok de Una Weeni
وہ پھول جو میرے دامن سے ہو گئے منسوب
خدا کرے انہیں بازار کی ہوا نہ لگے
خواب خواہش اور لوگ
کم ہی ہوں تو بہتر ہے
جانے اس دل کا حال کیا ہو گا
تیرا وعدہ اگر وفا ہو گا
ہم نہ باز آئینگے محبت سے
جان جائے گی اور کیا ہو گا
جو مخلص ہوں ہر ایک کے دیوانے نہیں ہوتے
کوئی اپنا نہیں غم کے مارے ہیں ہم
آپ کے در پہ فریاد لائے ہیں ہم
قفص اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو
کہیں تو بہر خدا آج ذکر یار چلے
اک مدت سے ہوں لذتِ گِریہ سے بھی محروم
اے راحتِ جاں مجھ کو رلانے کے لیئے آ
لا می چی زڑگی تا رانزدے نہ وے
لا مو چہ ترمنزہ فاصلے نہ وے
آئینہ خود بھی سنورتا تھا ہماری خاطر
ہم تیرے واسطے تیار ہوا کرتے تھے
بہت خاموش لوگوں سے
بہت الجھا نہیں کرتے
کہ صورت دا محمد نہ وے پیدا
پیدا کڑے بہ خدے نہ وا دا دنیا
ساقی یہ خموشی بھی تو کچھ غور طلب ہے
ساقی ترے مے خوار بڑی دیر سے چپ ہیں
دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا
اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا
احباب پوچھتے ہیں بڑی سادگی کے ساتھ
میں اب کے سال عید مناؤں گا کس طرح
کیا جانے کس ادا سے لیا تو نے میرا نام
دنیا سمجھ رہی ہے کہ سچ مچ تیرا ہوں میں
حد یہی ہے تو حد سے گزر جائیں گے
عشق چاہے گا چپ چاپ مر جائیں گے
برسن ہا رے رم جھم رم جھم
دو بوند ادھر بھی گرا جانا
جب کہا تھا محبت گناہ تو نہیں
پھر گناہ کے برابر سزا کیوں ملی
یار قضاء ہو جائے
تو دکھ واجب ہو جاتے ہیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain